ملفوظات (جلد 1) — Page 308
لیکن پھر بھی یہ کس کو علم ہو سکتا ہے کہ اس سفر سے کون زندہ آئے گا۔چھوٹے چھوٹے بچے اور بیویوں اور دوسرے عزیزوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر جانا کوئی سہل بات نہیں۔اپنے کاروبار اور معاملات کو ابتری اور پریشانی کی حالت میں چھوڑ کر ان لوگوں نے اس سفر کو اختیار کیا ہے اور انشراح صدر سے اختیار کیا ہے۔جس کے لئے میں یقین رکھتا ہوں کہ بڑا ثواب ہے۔ایک تو سفر کا ثواب ہے کیونکہ یہ سفر محض خدا تعالیٰ کی عظمت اور توحید کے اظہار کے واسطے ہے۔دوسرے اس سفر میں جو جو مشقتیں اور تکالیف ان لوگوں کو اٹھانی پڑیں گی ان کا ثواب بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا جبکہ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ (الزلزال:۸) کے موافق وہ کسی کی ذرّہ بھر نیکی کے اجر کو بھی ضائع نہیں کرتا تو اتنا بڑا سفر جو اپنے اندر ہجرت کا نمونہ رکھتا ہے اس کا اجر کبھی ضائع ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ہاں یہ ضروری ہے کہ صدق اور اخلاص ہو۔ریا اور دوسرے اغراض شہرت و نمود کے نہ ہوں اور میں جانتا ہوں کہ بَر و بحر کے شدائد و مصائب کو برداشت کرنا اور ایک موت کا قبول کر لینا بجز صدق کے نہیں ہو سکتا۔بہت سے بھائی ان کے لئے دعائیں کرتے رہیں گے اور میں بھی ان کے واسطے دعاؤں میں مصروف رہوں گا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس مقصد میں کامیاب کرے اور خیر و عافیت سے واپس لاوے اور سچ تو یہ ہے کہ ملائکہ بھی ان کے واسطے دعائیں کریں گے اور وہ ان کے ساتھ ہوں گے۔جماعت کی مروّت اور ہمت اب میں یہ بھی ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ اس موقع پر ہماری جماعت نے دو قسم کی مروّت اور ہمت دکھائی ہے۔ایک تو یہ گروہ ہے جنہوں نے سفر اختیار کیا ہے اور اپنے آپ کو سفر کے خطرات میں ڈالا ہے اور ان مصائب و شدائد کے برداشت کرنے کو تیار ہو گئے ہیں جو اس راہ میں انہیں پیش آئیں گی۔دوسرا وہ گروہ ہے جنہوں نے میرے دینی اغرا ض و مقاصد میں ہمیشہ دل کھول کر چندے دیئے ہیں۔مَیں کچھ ضرورت نہیں سمجھتا کہ تفصیل کروں کیونکہ ہر شخص کم و بیش اپنی استطاعت اور مقدرت کے موافق حصہ لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ وہ کس اخلاص اور وفاداری سے ان چندوں میں شریک ہوتے ہیں۔مَیں یہ