ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 307

حقیقت میں کوئی قوم اور جماعت طیار نہیں ہو سکتی جب تک اس میں اپنے امام کی اطاعت اور اتباع کے واسطے اس قسم کا جوش اور اخلاص اور وفا کا مادہ نہ ہو۔حضرت مسیح علیہ السلام کو جو مشکلات اور مصائب اٹھانے پڑے ان کے عوارض اور اسباب میں سے جماعت کی کمزوری اور بےدلی بھی تھی۔چنانچہ جب ان کو گرفتار کیا گیا تو پطرس جیسے اعظم الحواریّین نے اپنے آقا اور مرشد کے سامنے انکار کر دیا اور نہ صرف انکار کیا بلکہ تین مرتبہ لعنت بھی بھیج دی اور اکثر ان کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔اس کے برخلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے وہ صدق و وفا کا نمونہ دکھایا جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔انہوں نے آپ کی خاطر ہر قسم کا دکھ اٹھانا سہل سمجھا یہاں تک کہ عزیز وطن چھوڑ دیا اپنے املاک و اسباب اور احباب سے الگ ہو گئے اور بالآخر آپؐ کی خاطر جان تک دینے سے تامل اور افسوس نہیں کیا۔یہی صدق اور وفا تھی جس نے ان کو آخر کار بامراد کیا۔اسی طرح میں اب دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری جماعت کو بھی اس کی قدر اور مرتبہ کے موافق ایک جوش بخشا ہے اور وہ وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھاتے ہیں۔جس دن سے میں نے نصیبین کی طرف ایک جماعت کے بھیجنے کا ارادہ کیا ہے ہر ایک شخص کوشش کرتا ہے کہ اس خدمت پر میں مامور کیا جاؤں اور دوسرے کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور آرزو کرتا ہے کہ اس کی جگہ اگر مجھے بھیجا جاوے تو میری بڑی ہی خوش قسمتی ہے۔بہت سے احباب نے اس سفر پر جانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا۔میں ان درخواستوں سے پہلے مرزا خدا بخش صاحب کو اس سفر کے واسطے منتخب کر چکا تھا اور مولوی قطب الدین اور میاں جمال الدین کو ان کے ساتھ جانے کے واسطے تجویز کر لیا تھا اس واسطے مجھے ان احباب کی درخواستوں کو واپس کر دینا پڑا۔تاہم میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے بعہد کامل اور سچے اخلاص کے ساتھ اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا ہے اللہ تعالیٰ ان کی پاک نیتوں کے ثواب کو ضائع نہیں کرے گا اور وہ اپنے اخلاص کے موافق اجر پائیں گے۔خدا تعالیٰ کی خاطر سفر کی عظمت دور دراز بلاد اور ممالکِ غیر کا سفر آسان امر نہیں ہے اگرچہ یہ سچ ہے کہ اس وقت سفر آسان ہو گئے ہیں۔