ملفوظات (جلد 1) — Page 304
ملفوظات حضرت مسیح موعود لله ولد جلد اول سے بعض مسلمان بھی ان کے شریک ہو گئے ہیں ۔ اسی ایک مسئلے پر عیسائیت کا دارو مدار ہے کیونکہ عیسائیت کی نجات کا مدار اسی صلیب پر ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ مسیح ہمارے لئے مصلوب ہوا اور پھر وہ زندہ ہو کر آسمان پر چلا گیا، جو گو یا اس کی خدائی کی دلیل ہے۔ جن مسلمانوں نے اپنی غلطی سے ان لوگوں کا ساتھ دیا ہے وہ یہ تو نہیں مانتے کہ مسیح صلیب پر مر گیا مگر وہ اتنا ضرور مانتے ہیں کہ وہ آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ لیکن جو حقیقت اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھولی ہے وہ یہ ہے کہ مسیح ابن مریم اپنے ہم عصر یہودیوں کے ہاتھوں سخت ستایا گیا جس طرح پر راست باز اپنے زمانہ میں نادان مخالفوں کے ہاتھوں ستائے جاتے ہیں اور آخران یہودیوں نے اپنی منصوبہ بازی اور شرارتوں سے یہ کوشش کی کہ کسی طرح پر ان کا خاتمہ کر دیں اور ان کو مصلوب کرادیں۔ بظاہر وہ اپنی ان تجاویز میں کامیاب ہو گئے کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم کو صلیب پر چڑھائے جانے کا حکم دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے جو اپنے راستبازوں اور ماموروں کو کبھی ضائع نہیں کرتا ان کو اس لعنت سے جو صلیب کی موت کے ساتھ وابستہ تھی بچالیا اور ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ وہ اس صلیب پر سے زندہ اُتر آئے ۔ اس امر کے ثبوت کے لئے بہت سے دلائل ہیں جو خاص انجیل ہی سے ملتے ہیں لیکن اس وقت اس کا بیان کرنا میری غرض نہیں ان واقعات کو جو صلیب کے واقعات ہیں انجیل میں پڑھنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ مسیح ابن مریم صلیب پر سے زندہ اُتر آئے اور پھر یہ خیال کر کے کہ اس ملک میں اُن کے بہت سے دشمن ہیں اور دشمن بھی دشمن جان اور جیسا کہ وہ پہلے کہہ چکے تھے کہ نبی بے عزت نہیں ہوتا مگر اپنے وطن میں ۔جس سے ان کی ہجرت کا پتا ملتا تھا انھوں نے ارادہ کر لیا کہ اس ملک کو چھوڑ دیں اور اپنے فرضِ رسالت کو پورا کرنے کے لیے وہ بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی تلاش میں نکلے اور نصیبین کی طرف سے ہوتے ہوئے افغانستان کے راستہ کشمیر میں آکر بنی اسرائیل کو جو کشمیر میں موجود تھے تبلیغ کرتے رہے اور اُن کی اصلاح کی اور آخر ان میں ہی وفات پائی ۔ یہ امر ہے جو مجھ پر کھولا گیا ہے۔