ملفوظات (جلد 1) — Page 292
ہیں۔کوئی کچھ بولتا ہے کوئی کچھ۔غرض ان بھانت بھانت کی بولیوں کو سن کر جوہر ملک میں جو اس دنیا پر آباد ہے یورپ،امریکہ وغیرہ میں اشتہار دیتے ہیں اس کی غرض کیا ہے۔ہماری غرض ہماری غرض بجز اس کے اور کچھ نہیں تاکہ لوگوں کو اس خدا کی طرف رہنمائی کریں جسے ہم نے خود دیکھا ہے۔سنی سنائی بات اور قصہ کے رنگ میں ہم خدا کو دکھانا نہیں چاہتے بلکہ ہم اپنی ذات اور اپنے وجود کو پیش کرکے دنیا کو خدا تعالیٰ کا وجود منوانا چاہتے ہیں۔یہ ایک سیدھی بات ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف جس قدر کوئی قدم اٹھاتا ہے خدا تعالیٰ اس سے زیادہ سُرعت اور تیزی کے ساتھ اس کی طرف آتا ہے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب ایک معزز آدمی کا منظور نظر عزیز اور واجب التعظیم سمجھا جاتا ہے تو کیا خدا تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والا اپنے اندر ان نشانات میں سے کچھ بھی حصہ نہ لے گا جو خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور بے انتہا طاقتوں کا نمونہ ہوں۔مقربانِ بارگاہِ الٰہی کا مقام یہ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی غیرت کبھی تقاضا نہیں کرتی کہ اس کو ایسی حالت میں چھوڑے کہ وہ ذلیل ہو کر پیسا جاوے۔نہیں بلکہ جیسے وہ خود وحدہٗ لا شریک ہے وہ اپنے اس بندہ کو بھی ایک فرد اور وحدہٗ لاشریک بنادیتا ہے۔دنیا کے تختہ پر کوئی انسان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہر طرف سے اس پر حملے ہوتے ہیں اور ہر حملہ کرنے والا اس کی طاقت کے اندازہ سے بے خبر ہو کر جانتا ہے کہ میں اسے تباہ کر ڈالوں گا لیکن آخر اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا بچ نکلنا انسانی طاقت سے باہر کسی قوت کا کام ہے کیونکہ اگر اسے پہلے سے یہ علم ہوتا تو وہ حملہ بھی نہ کرتا۔پس وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے حضور ایک تقرب حاصل کرتے ہیں اور دنیا میں اس کے وجود اور ہستی پر ایک نشان ہوتے ہیں۔بظاہر اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ہر ایک مخالف اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ میرے مقابلہ میں یہ بچ نہیں سکتا کیونکہ ہر قسم کی تدبیر اور کوشش کے نتائج اسے یہیں تک پہنچاتے ہیں لیکن جب وہ اس زد میں سے ایک عزت اور احترام کے ساتھ اور سلامتی سے نکلتا تھا تو ایک دم کے لئے تو اسے حیران ہونا پڑتا ہے کہ اگر انسانی طاقت کا ہی کام تھا تو اس کا بچنا محال تھا لیکن اب اس کا صحیح سلامت رہنا انسان نہیں بلکہ خدا کا کام ہے۔