ملفوظات (جلد 1) — Page 291
اللہ تعالیٰ کی حالت غیب میں رہنے کی حکمت میرے نزدیک مورتی بنانے والوں نے خدا تعالیٰ کی اس حکمت اور راز کو نہیں سمجھا جو اس نے اپنے آپ کو بظاہر ایک حالت غیب میں رکھا ہے۔خدا تعالیٰ کا غیب میں ہی ہونا انسان کے لئے تمام تلاش اور جستجو اور کل تحقیقاتوں کی راہوں کو کھولتا ہے۔جس قدر علوم اور معارف انسان پر کھلے ہیں وہ گو موجود تھے اور ہیں لیکن ایک ایک وقت میں وہ غیب میں تھے۔انسان کی سعی اور کوشش کی قوت نے اپنی چمکار دکھائی اور گوہر مقصود کو پا لیا۔جس طرح پر ایک عاشق صادق ہوتا ہے۔اس کے محبوب اور معشوق کی غیر حاضری اورآنکھوں سے بظاہر دور ہونا اس کی محبت میں کچھ فرق نہیں ڈالتا بلکہ وہ ظاہری ہجر اپنے اندر ایک قسم کی سوزش پیدا کر کے اس پریم بھاؤ کو اور بھی ترقی دیتا ہے۔اسی طرح پر مورتی لے کر خدا کو تلاش کرنے والا کب سچی اور حقیقی محبت کا دعویدار بن سکتا ہے جبکہ مورتی کے بدوں اس کی توجہ کامل طور پر اس پاک اور کامل حسن ہستی کی طرف نہیں پڑ سکتی۔انسان اپنی محبت کا خود امتحان کرے۔اگر اس کو اس سوختہ دل عاشق کی طرح چلتے پھرتے، بیٹھتے اٹھتے غرض ہر حالت میں بیداری کی ہو یا خواب کی، اپنے محبوب کا ہی چہرہ نظر آتا ہے اور کامل توجہ اسی طرف ہے تو سمجھ لے کہ واقعی مجھے خدا تعالیٰ سے ایک عشق ہے اور ضرور ضرور خدا تعالیٰ کا پر کاش اور پریم میرے اندر موجود ہے لیکن اگر درمیانی امور اور خارجی بندھن اور رکاوٹیں اس کی توجہ کو پھرا سکتی ہیں اور ایک لحظہ کے لئے بھی وہ خیال اس کے دل سے نکل سکتا ہے تو میں سچ کہتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ کا عاشق نہیں اور اس سے محبت نہیں کرتا اور اسی لئے وہ روشنی اور نور جو سچے عاشقوں کو ملتا ہے اسے نہیں ملتا۔یہی وہ جگہ ہے جہاں آکر اکثر لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے اور خدا کا انکار کر بیٹھے ہیں۔نادانوں نے اپنی محبت کا امتحان نہیں کیا اور اس کا وزن کئے بدوں ہی خدا پربد ظن ہو گئے ہیں۔پس میرے خیال میں خدا تعالیٰ کا غیب میں رہنا انسان کی سعادت اور رشد کو ترقی دینے کی خاطر ہے اور اس کی روحانی قوتوں کو صاف کرکے جلا دینے کے لئے تاکہ وہ نور اس میں پرکاش ہو۔ہم جو بار بار اشتہار دیتے ہیں اور لوگوں کو تجربہ کے لئے بلاتے ہیں۔بعض لوگ ہم کو دوکان دار کہتے