ملفوظات (جلد 1) — Page 22
وہ اللہ کو پہچاننا اور کسی ابتلا اور زلازل اور امتحان سے نہ ڈرنا ہے۔ضرور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مورد مخاطبہ و مکالمہ الٰہی انبیاء کی طرح ہوگا۔ولی بننے کے لئے ابتلا ضروری ہیں بہت سے لوگ یہاں آتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پھوک مار کر عرش پر پہونچائے اور واصلین سے ہوجاویں۔ایسے لوگ ٹھٹھہ کرتے ہیں۔وہ انبیاء کے حالات کو دیکھیں۔یہ غلطی ہے جو کہا جاتا ہے کہ کسی ولی کے پاس جا کر صدہا ولی فی الفور بن گئے۔اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ (العنکبوت:۳) جب تک انسان آزمایا نہ جاوے، فتن میں نہ ڈالا جاوے وہ کب ولی بن سکتا ہے۔ایک مجلس میں بایزیدؒ وعظ فرمارہے تھے۔وہاں ایک مشائخ زادہ بھی تھا جو ایک لمبا سلسلہ رکھتا تھا۔اس کو آپ سے اندرونی بغض تھا۔اللہ تعالیٰ کا یہ خاصہ ہے کہ پرانے خاندانوں کو چھوڑ کر کسی اور کو لے لیتا ہے جیسے بنی اسرائیل کو چھوڑ کر بنی اسماعیل کو لے لیا۔کیونکہ وہ لوگ عیش وعشرت میں پڑ کر خدا کو بھول گئے ہوتے ہیں وَ تِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (اٰلِ عمران:۱۴۱) سو اس شیخ زادے کو خیال آیا کہ یہ ایک معمولی خاندان کا آدمی ہے۔کہاں سے ایسا صاحب خوارق آگیا۔لوگ اس طرف جھکتے ہیں اور ہماری طرف نہیں آتے۔یہ باتیں خدا تعالیٰ نے بایزید ؒ پر ظاہر کیں۔انہوں نے ایک قصہ کے رنگ میں یہ بیان شروع کیا کہ ایک جگہ مجلس میں رات کے وقت ایک لیمپ۔۔۔۔میں جل رہا تھا۔تیل اور پانی میں بحث ہوئی۔پانی نے تیل کو کہا کہ تو کثیف اور گندہ ہے اور باوجود کثافت کے میرے اوپر آتا ہے۔میں ایک مصفا چیز ہوں اور طہارت کے لئے استعمال کیا جاتا ہوں لیکن نیچے ہوں۔اس کا باعث کیا ہے؟ تیل نے کہا کہ جس قدر صعوبتیں میں نے کھینچی ہیں تو نے کہاں وہ جھیلی ہیں جس کے باعث یہ بلندی مجھے نصیب ہوئی۔ایک زمانہ تھا جب میں بویا گیا زمین میں مخفی رہا، خاکسار ہوا۔پھر خدا کے ارادہ سے بڑھا۔بڑھنے نہ پایا کہ کاٹا گیا۔پھر طرح طرح کی مشقتوں کے بعد صاف کیا گیا۔کولہوں میں پیسا گیا۔پھر تیل بنا اور آگ لگائی گئی۔کیا ان مصائب