ملفوظات (جلد 1) — Page 290
حضرت اقدسؑ۔اس میں کیا کھاتے تھے؟ سادھو۔پہلے چاولوں کاآٹا کھایا کرتے تھے۔پھر صرف پانی جو پکا کر رکھا ہوا تھا یعنی ایک گاگر کا نصف جب رہ جاوے تو وہ رکھ لیا کرتے تھے اور اس میں سے سیر کچا صبح کو پی لیا کرتے تھے اور اسی وقت پیشاب کر لیا کرتے تھے اور پھر کچھ نہیں۔حضرت اقدسؑ۔کیااس میں لوہا وغیرہ تو نہ ہوتا تھا؟ سادھو۔نہیں۔حضرت اقدسؑ۔پھر کیا اس ریاضت کی حالت میں آپ کو کچھ عجیب و غریب نظارے نظر آئے؟ سادھو۔ہاں کبھی روشنی نظر آتی تھی جو اندر ہو جاتی تھی اور دور دور سے آتے جاتے آدمی نظر آجاتے تھے۔(اس کے بعد چند منٹ خاموشی رہی۔پھر اس مہر سکوت کو سادھو صاحب نے اپنے اس ایک سوال سے توڑا) (ایڈیٹر) سادھو۔کیا آپ پرمیشر کو اکار مانتے ہیں یا نرا کار؟ (حضرت مولوی نور الدین صاحب نے اس موقع پر بطور تشریح عرض کیا کہ مورتی کے قابل یا ایسا خدا کہ مورتی کی ضرورت نہ ہو) اسلام کا خدا حضرت اقدسؑ۔ہم جس خدا کو مانتے ہیں اس کی عبادت اور پرستش کے لئے نہ تو ان مشقتوں اور ریاضتوں کی ضرورت ہے اور نہ کسی مورتی کی حاجت ہے۔اور ہمارے مذہب میں خدا تعالیٰ کو حاصل کرنے اوراس کی قدرت نمائیوں کے نظارے دیکھنے کے لئے ایسی تکالیف کے برداشت کرنے کی کچھ بھی حاجت نہیں بلکہ وہ اپنے سچے پریمی بھگتوں کو آسان طریق سے جو ہم نے خود تجربہ کرکے دیکھ لیا ہے بہت جلد ملتا ہے۔انسان اگر اس کی طرف ایک قدم اٹھاتا ہے تو وہ دو قدم اٹھاتا ہے۔انسان اگر تیز چلتا ہے تو وہ دوڑ کر اس کے ہردے میں پرکاش کرتا ہے۔