ملفوظات (جلد 1) — Page 289
حضرت اقدسؑ۔اس مشقّت کے بعد کیا کوئی ایسی قوت اور طاقت پیدا ہو جاتی ہے جس سے اس پریم کا پتا لگ جاوے جو اس ریاضت کرنے والے کو خدا کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ محبت کا پتا اور وجود اس وقت تک نہیں ملتا جب تک کہ دونوں طرف سے کامل محبت کا اظہار نہ ہو۔اِدھر سے محبت کے جوش میں ہر قسم کے دکھ اور تکلیف کو برداشت کرنے کے لئے طیار ہو اور اُدھر سے یعنی پرمیشر کی طرف سے ایسا پرکاش (روشنی یا نور) اس کو ملے کہ وہ عام طور پر لوگوں میں متمیز ہو جاوے۔سادھو۔ہاں کچھ بل اور طاقت آہی جاتا ہے۔حضرت اقدسؑ۔بھلا کوئی ایسی طاقت اور بل کی بات آپ سنائیں جو آپ کی سنی ہوئی نہ ہو بلکہ دیکھی ہوئی ہو۔یعنی آپ کے گرو میں یا ان کے گرو میں۔کیونکہ بات یہ ہے کہ سنی ہوئی بات کچھ ایسی مؤثر نہیں ہوتی خواہ وہ کتنی ہی صحیح کیوں نہ ہو قصے کہانی کے ذیل میں سمجھی جاتی ہے۔جیسے مثلاً کوئی کہے کہ ایک دیش ہے، وہاں آدمی اڑا کرتے ہیں۔اب ہم کو اس کے ماننے میں ضرور تامل ہوگا کیونکہ ہم نے نہ تو ایسے اُڑتے دیکھے ہیں اور نہ خود اُڑے ہیں۔پس قوت ایمان اور یقین کے بڑھانے کے لئے سنی سنائی باتیں فائدہ نہیں پہنچاتی ہیں بلکہ تازہ بتازہ جو سامنے دیکھی جاویں اور اس سے بھی بڑھ کر وہ جو خود انسان کی اپنی حالت پر وارد ہوں۔پس میرے اس سوال سے یہ غرض ہے کہ آپ کوئی ایسی بات بتلائیں جو اس ریاضت کرنے والوں میں آپ نے دیکھی ہوں یا سنی ہوں۔سادھو۔ہاں ہمارے جو گرو تھے ان میں بعض بعض باتیں ایسی تھیں جو دوسرے کے من کی بات بوجھ لیتے تھے اور پھر جو منہ سے کہہ دیتے تھے ہو جاتا تھا اور جو اُن کے گرو تھے ان میں بھی بہت سی باتیں ایسی ہوتی تھیں مگر ان کو دیکھا نہیں؛ تاہم دیکھنے کے برابر ہے، کیونکہ ان کو مرے کوئی اَسّی برس کے قریب ہوئے اور ان کے دیکھنے والے ابھی موجود ہیں۔حضرت اقدسؑ۔آپ نے بھی کوئی ریاضتیں کی تھیں؟ سادھو۔جی ہاں۔میں نے بھی کی ہیں۔حضرت اقدس۔کیا کِیا؟ سادھو۔پہلے چلّہ کشی کیا کرتے تھے یہاں تک کہ آٹھ مہینے کا ایک ہی چلّہ تھا۔