ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 288

آسودۂِ روزگار اور بفضل الٰہی مالی حالتوں میں دوسروں کے محتاج نہیں ہیں۔اگر اُنھوں نے پورے طور پر میرے دعوے پر یقین حاصل نہیں کیا اور پوری تسلی نہیں پائی تو کیوں وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر اور عزیزوں سے علیحدہ ہو کر غربت اور مسافری میں اس جگہ میرے پاس بسر کرتے ہیں اور اپنی اپنی مقدرت کے موافق مالی امداد میں میرے سلسلہ کے لیے فدا اور دلدادہ ہیں۔ہر ایک بات کا وقت ہے۔بہار کا بھی وقت ہے اور برسات کا بھی وقت ہے اور کوئی نہیں جو خدا کے ارادے ٹال دے۔۶۹؎ یکم اگست ۱۸۹۹ء معرفت الٰہی کے موضوع پر ایک ہندو سادھو سے مکالمہ یکم اگست ۱۸۹۹ء کو بعد مغرب حضرت اقدس کی ملاقات کے لیے ایک ہندو سادھو صاحب جو اپنے طبقہ میں مشہور گرو ہیں تشریف لائے اور حضورؑ سے باتیں کرتے رہے۔یہ اس گفتگو کا خلاصہ یا مفہوم ہے جس کو حافظہ کی مدد سے ہم نے اپنے الفاظ میں قلم بند کیا ہے۔(ایڈیٹر الحکم) حضرت اقدسؑ۔آپ کے ہاں جوگ کا طریق سناتن دھرم کے اُصول پر ہے یا آریہ سماج کے اصول پر۔سادھو۔سناتن دھرم کے موافق۔حضرت اقدسؑ۔آریہ سماج ایک ایسا فرقہ ہے جس میں صرف کہنا ہے کرنا نہیں۔سادھو۔بے شک یہ لوگ گُرو کی ضرورت نہیں سمجھتے اور یہاں تک کہ دیانند کو بھی گرو کی حیثیت سے نہیں مانتے۔کہتے ہیں کہ وہ ایک راہ بتا گیا ہے، اس پر چلنا چاہیے۔حضرت اقدسؑ۔آپ کے جوگ کے لئے بڑی بڑی مشقتیں ہیں۔سادھو۔جی ہاں۔