ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 287

کیوں اس قدر ایک باقاعدہ نظام کے ساتھ اپنی حرکت کو قائم رکھ کر ہمارے واسطے فائدہ مند ہوتی ہے۔ایسا ہی آسمان کی گھڑی کہ اُس کی ترتیب اور باقاعدہ اور باضابطہ انتظام یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بالارادہ خاص مقصد اور مطلب اور فائدہ کے واسطے بنائی گئی ہے۔اس طرح انسان مصنُوع سے صانع کو اور تقدیر سے مقدر کو پہچان سکتا ہے۔لیکن اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہستی کے ثبوت کا ایک اور ذریعہ قائم کیا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ قبل از وقت اپنے برگزیدوں کو کسی تقدیر سے اطلاع دے دیتا ہے اور اُن کو بتلا دیتا ہے کہ فلاں وقت اور فلاں دن میں مَیں نے فلاں امر کو مقدر کردیا ہے چنانچہ وہ شخص جس کو خدا نے اس کام کے واسطے چُنا ہوا ہوتا ہے پہلے سے لوگوں کو اطلاع دے دیتا ہے کہ ایسا ہوگا اور پھر ایسا ہی ہوجاتا ہے جیسا کہ اُس نے کہا تھا۔اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت کے واسطے یہ ایسی دلیل ہے کہ ہر ایک دہریہ اس موقع پر شرمندہ اور لاجواب ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہزاروں ایسے نشانات عطا کیے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی ہستی پر لذیذ ایمان پیدا ہوتا ہے۔ہماری جماعت کے اس قدر لوگ اس جگہ موجود ہیں۔کون ہے جس نے کم از کم دو چار نشان نہیں دیکھے اور اگر آپ چاہیں تو کئی سو آدمی کو باہر سے بلوائیں اور اُن سے پوچھیں۔اس قدر احبار اور اخیار اور متّقی اور صالح لوگ جو کہ ہر طرح سے عقل اور فراست رکھتے ہیں اور دنیوی طور پر اپنے معقول روز گاروں پر قائم ہیں۔کیا ان کو تسلی نہیں ہوئی۔کیا انھوں نے ایسی باتیں نہیں دیکھیں جن پر انسان کبھی قادر نہیں ہے۔اگر ان سے سوال کیا جائے تو ہر ایک اپنے آپ کو اوّل درجہ کا گواہ قرار دے گا۔کیا ممکن ہے کہ ایسے ہر طبقہ کے انسان جن میں عاقل اور فاضل اور طبیب اور ڈاکٹر اور سوداگر اور مشائخ سجادہ نشین اور وکیل اور معزز عہدہ دار ہیں بغیر پوری تسلی پانے کے یہ اقرار کر سکتے ہیں کہ ہم نے اس قدر آسمانی نشان بچشم خود دیکھے؟ اور جبکہ وہ لوگ واقعی طور پر ایسا اقرار کرتے ہیں جس کی تصدیق کے لیے ہر وقت شخص مکذب کو اختیار ہے تو پھر سوچنا چاہیے کہ ان مجموعہ اقرارات کا طالب حق کے لیے اگر وہ فی الحقیقت طالب حق ہے کیا نتیجہ ہونا چاہیے۔کم سے کم ایک ناواقف اتنا تو ضرور سوچ سکتا ہے کہ اگر اس گروہ میں جو لوگ ہر طرح سے تعلیمیافتہ اور دانا اور