ملفوظات (جلد 1) — Page 255
میں ذرابھی جھوٹ نہیں۔کیونکہ ہر ایک کام کے لیے خواہ دینی ہو خواہ دنیوی دعا کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے موزوں اور طیّب بنا دیا ہے۔عربی تصنیفات میں دعا کے اثرات عربی تصنیفات میں ایک ایک لفظ دعا ہی کا اثر ہے ورنہ انسانی طاقت کا کام نہیں کہ تحدّی کرے۔اگر دعا کا اثر نہیں تو پھر کیوں کوئی مولوی یا اہل زبان دم نہیں مار سکتا۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اہل زبان کے رنگ اور محاورہ پر ہماری کتب تصنیف ہوئی ہیں ورنہ اہل زبان بھی سارے اس پر قادر نہیں ہوتے کہ کُل مسلّم محاورات زبان پر اطلاع رکھتے ہوں پس یہ خداہی کا فضل ہے۔۴۸؎ ۲؍جنوری ۱۸۹۹ ء رسالہ کشف الغطاء کی تصنیف کا مقصد ۸ بجے دن کے حضرت اقدس امامِ ہمامؑ ایک کثیر التعداد احباب کے ہمراہ سیر کو تشریف لے گئے۔اثنائے راہ میں فرمایا۔یہ تکالیف اور ایذائیں جو مخالف کبھی بدزبانیوں کے رنگ میں اور جھوٹ اور افترا سے بھرے ہوئے اشتہاروں کے ذریعے اور کبھی گورنمنٹ اور حکومت کو خلاف واقعہ اور محض جھوٹی باتوں کے بیان کرنے سے بدظن کرکے ہم کو پہنچاتے ہیں۔اگر ہماری اپنی ہی ذات تک محدود اور مخصوص ہوتی ہیں تو خدائے تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہم کو ذرا بھی خیال نہ ہوتا کیونکہ ہم تو قربانی کے بکرے کی طرح اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر وقت تیار ہیں مگر اس کا اثر ہماری قوم پر پہنچتا ہے۔اور بعض لوگ ابھی ایسے کمزور بھی ہیں جو ابتلا برداشت نہیں کر سکتے اس لیے ہم نے مناسب سمجھا ہے کہ ان کُل حالات کو چھاپ کر گورنمنٹ کے پاس بھیج دیں کیونکہ اگر ہم خاموش رہیں تو ادھر مخالف ریشہ دوانیاں کرتے ہیں۔پھر اس کا اثر اچھا نہیں پڑتا۔چونکہ ہمارے دل صاف ہیں اور ہم بدباطن لوگوں کی طرح نفاق اور مداہنت سے کام نہیں