ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 252

پھر اسی کے ضمن میں منن الرحمن کی اشاعت کے متعلق تذکرہ ہوتا رہا۔حضرتؑ نے فرمایا کہ بعض اسباب اور سامان کے بہم پہنچ جانے پر جو اس کے لئے ضروری ہیں شائع ہوگی۔اپنی صداقت پر چار قسم کے نشانات پھر اسی ذکر میں آپؑ نے فرمایا۔میں نے بار ہا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چار قسم کے نشان مجھے دیئے ہیں اور جن کو میں نے بڑے دعوے کے ساتھ متعدد مرتبہ لکھا اور شائع کیا ہے۔اوّل۔عربی دانی کا نشان ہے۔اور یہ اس وقت سے مجھے ملا ہےجب سے کہ محمد حسین (بٹالوی صاحب) نے یہ لکھا کہ یہ عاجز عربی کا ایک صیغہ بھی نہیں جانتا حالانکہ ہم نے کبھی دعویٰ بھی نہیں کیا تھا کہ عربی کا صیغہ آتا ہے۔جو لوگ عربی املاء اورانشاء میں پڑے ہیں وہ اس کی مشکلات کا اندازہ کر سکتے ہیں اور اس کی خوبیوں کا لحاظ رکھ سکتے ہیں۔مولوی صاحب (مولوی عبدالکریم صاحب سے مراد تھی) شروع سے دیکھتے رہے ہیں کہ کس طرح پر اللہ تعالیٰ نے اعجازی طور پر مدد دی ہے۔بڑی مشکل آکر پڑتی ہے جب ٹھیٹھ زبان کا لفظ مناسب موقع پر نہیں ملتا، اس وقت خدا تعالیٰ وہ الفاظ القا کرتا ہے۔نئی اور بناوٹی زبان بنا لینا آسان ہے مگر ٹھیٹھ زبان مشکل ہے۔پھر ہم نے ان تصانیف کو بیش قرار انعامات کے ساتھ شائع کیا ہے اور کہا ہے کہ تم جس سے چاہو مدد لے لو اور خواہ اہل زبان بھی ملالو۔مجھے خدا تعالیٰ نے اس بات کا یقین دلادیا ہے کہ وہ ہر گز قادر نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ نشان قرآن کریم کے خوارق میں سے ظلّی طور پر مجھے دیا گیا ہے۔دوم۔دعاؤں کا قبول ہونا۔میں نے عربی تصانیف کے دوران میں تجربہ کرکے دیکھ لیا ہے کہ کس قدر کثرت سے میری دعائیں قبول ہوئی ہیں۔ایک ایک لفظ پر دعا کی ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو مستثنیٰ کرتا ہوں۔(کیونکہ ان کے طفیل اور اقتدا سے تو یہ سب کچھ ملا ہی ہے) اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میری دعائیں اس قدر قبول ہوئی ہیں کہ کسی کی نہیں ہوئی ہوں گی۔میں نہیں کہہ سکتا دس ہزار یا دو لاکھ یا کتنے اور بعض نشانات قبولیتِ دعا کے تو ایسے ہیں کہ ایک عالم ان کو جانتا ہے۔تیسرا نشان پیش گوئیوں کا ہے یعنی اظہار علی الغیب۔یوں تو نجومی اور رَمّال لوگ بھی اٹکل بازیوں