ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 18

ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وعدہ کرے اور پورا نہ کرے۔اندھا کون ہے؟ اندھے سے مراد وہ ہے جو روحانی معارف اور روحانی لذات سے خالی ہے۔ایک شخص کورانہ تقلید سے کہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوگیا مسلمان کہلاتا ہے۔دوسری طرف اسی طرح ایک عیسائی عیسائیوں کے ہاں پیدا ہو کر عیسائی ہوگیا۔یہی وجہ ہے کہ ایسے شخص کو خدا، رسول اور قرآن کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔اس کی دین سے محبت بھی قابل اعتراض ہے۔خدا اور رسول کی ہتک کرنے والوں میں اس کا گزر ہوتا ہے۔اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ایسے شخص کی روحانی آنکھ نہیں۔اس میں محبت دین نہیں۔وَاِلَّا محبت والا اپنے محبوب کے برخلاف کیا کچھ پسند کرتا ہے؟ غرض اللہ تعالیٰ نے سکھلایا ہے کہ میں تو دینے کو طیار ہوں اگر تو لینے کو طیار ہے۔پس یہ دعا کرنا ہی اس ہدایت کو لینے کی طیاری ہے۔متّقی اس دعا کے بعد سورہ بقرہ کے شروع میں ہی جو هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ (البقرۃ:۳) کہا گیا تو گویا خدا تعالیٰ نے دینے کی طیاری کی۔یعنی یہ کتاب متقی کو کمال تک پہنچانے کا وعدہ کرتی ہے۔سو اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ کتاب ان کے لیے نافع ہے جو پرہیز کرنے اور نصیحت سننے کو تیار ہو۔اس درجہ کا متقی وہ ہے جو مخلَّی بالطبع ہو کر حق کی بات سننے کو تیار ہو۔جیسے جب کوئی مسلمان ہوتا ہے تو وہ متقی بنتا ہے۔جب کسی غیر مذہب کے اچھے دن آئے تو اس میں اتّقا پیدا ہوا۔عُجب، غرور، پندار دور ہوا۔یہ تمام روکیں تھیں جو دور ہو گئیں۔ان کے دور ہونے سے تاریک گھر کی کھڑکی کھل گئی اور شعاعیں اندر داخل ہو گئیں۔یہ جو فرمایا کہ یہ کتاب متّقین کی ہدایت ہے یعنی هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ تو اتّقا جو افتعال کے باب پر ہے اور یہ باب تکلّف کے لیے آیا کرتا ہے یعنی اس میں اشارہ ہے کہ جس قدر یہاں ہم تقویٰ چاہتے ہیں وہ تکلف سے خالی نہیں، جس کی حفاظت کے لئے اس کتاب میں ہدایات ہیں۔گویا متّقی کو نیکی کرنے میں تکلیف سے کام لینا پڑتا ہے۔عبد صالح جب یہ درجہ گزر جاتا ہے تو سالک عبدصالح ہو جاتا ہے۔گویا تکلیف کا رنگ دور ہوا اور صالح نے طبعاً و فطرتاً نیکی شروع کی۔وہ ایک قسم کے دارالامان میں ہے جس کو