ملفوظات (جلد 1) — Page 17
سمجھے اور وہ یہ ہے کہ یہ امت بہائم کی طرح زندگی بسر نہ کرے بلکہ اس کے تمام پردے کھل جاویں جیسے کہ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ولایت بارہ اماموں کے بعد ختم ہو گئی۔برخلاف اس کے اس دعا سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ خدا نے پہلے سے ارادہ کر رکھا ہے کہ جو متقی ہو اور خدا کی منشا کے مطابق ہے تو وہ ان مراتب کو حاصل کر سکے جو انبیاء اور اصفیاء کو حاصل ہوتے ہیں۔اس سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ انسان کو بہت سے قویٰ ملے ہیں جنہوں نے نشوونما پانا ہے اور بہت ترقی کرنا ہے۔ہاں ایک بکرا چونکہ انسان نہیں اس کے قویٰ ترقی نہیں کرسکتے۔عالی ہمت انسان جب رسولوں اور انبیاء کے حالات سنتا ہے تو چاہتا ہے کہ وہ انعامات جو اس پاک جماعت کو حاصل ہوئے اس پر نہ صرف ایمان ہی ہو بلکہ اسے بتدریج ان نعماء کا علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین ہو جاوے۔علم کے تین مدارج علم کے تین مدارج ہیں۔علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین۔مثلاً ایک جگہ سے دھواں نکلتا دیکھ کر آگ کا یقین کر لینا علم الیقین ہے لیکن خود آنکھ سے آگ کا دیکھنا عین الیقین ہے۔ان سے بڑھ کر درجہ حق الیقین کا ہے یعنی آگ میں ہاتھ ڈال کر جلن اور حرقت سے یقین کر لینا کہ آگ موجود ہے۔پس کیسا وہ شخص بد قسمت ہے جس کو تینوں میں سے کوئی درجہ حاصل نہیں۔اس آیت کے مطابق جس پر اللہ کا فضل نہیں وہ کورانہ تقلید میں پھنسا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) جو ہماری راہ میں مجاہدہ کرے گا ہم اس کو اپنی راہیں دکھلا دیں گے۔یہ تو وعدہ ہے اور ادھر یہ دعا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ (الفاتحۃ:۶) سو انسان کو چاہیے کہ اس کو مدنظر رکھ کر نماز میں بالحاح دعا کرے اور تمنا رکھے کہ وہ بھی ان لوگوں میں سے ہو جاوے جو ترقی اور بصیرت حاصل کر چکے ہیں ایسا نہ ہو کہ اس جہان سے بے بصیرت اور اندھا اٹھایا جاوے چنانچہ فرمایا وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنی اسرآءیل : ۷۳) کہ جو اِس جہان میں اندھا ہے وہ اُس جہان میں بھی اندھا ہے جس کی منشا یہ ہے کہ اس جہان کے مشاہدہ کے لئے اسی جہان سے ہم کو آنکھیں لے جانی ہیں۔آئندہ جہان کو محسوس کرنے کے لئے حواس کی طیاری اسی جہان میں ہوگی پس کیا یہ گمان