ملفوظات (جلد 1) — Page 251
ہوں اور میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اپنے نفس کا ذرا بھی خیال نہیں ہوتا۔چنانچہ رات میں نے دیکھا کہ ایک بڑا پیالہ شربت کا پیا۔اس کی حلاوت اس قدر ہے کہ میری طبیعت برداشت نہیں کرتی بایں ہمہ مَیں اس کو پیئے جاتا ہوں اور میرے دل میں یہ خیال بھی گزرتا ہے کہ مجھے پیشاب کثرت سے آتا ہے اتنا میٹھا اور کثیر شربت میں کیوں پی رہا ہوں مگر اس پر بھی میں اس پیالے کو پی گیا۔شربت سے مراد کامیابی ہوتی ہے اور یہ اسلام اور ہماری جماعت کی کامیابی کی بشارت ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جس قدر تعلقات انسان کے وسیع ہوتے ہیں اسی قدر سلسلہ اس کے خواب کا بلحاظ تعلقات وسیع ہوتا جاتا ہے۔مثلاً اگر کلکتہ کا کوئی ایسا شخص ہو جس کو ہم جانتے بھی نہیں تو اس کے متعلق کوئی خواب بھی نہ آئے گی چنانچہ کئی سال پہلے جب مجھے صرف چند آدمی جانتے تھےاس وقت جو خواب آتی تھی وہ ان تک ہی محدود ہوتی تھی اور اب کئی ہزار سے تعلق رکھتی ہے۔ادویات کے متعلق گفتگو کا سلسلہ چل پڑا اور وہ اس تقریب پر کہ مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کو کوئی دوا حضرت اقدس نے شب گذشتہ کو دی تھی۔اس کے اثر کے متعلق حضرت نے دریافت فرمایا۔اسی ضمن میں ایسٹرن سیرپ اور کچلہ وغیرہ پر مختلف ذکر ہوتا رہا اور ان کے خواص میں سے اعصاب کی تقویت کا تذکرہ ہوا۔عربی زبان کے کمالات جس پر حضرت اقدس کو مولانا مولوی عبدالکریم نے اس امر کی طرف توجہ دلادی کہ عصب کے لفظ میں فلاسفی بھری ہوئی ہے۔کیونکہ عصب کے معنی ہیں باندھنا اور پٹھے بھی انسان کے اعضاء کو رسیوں کی طرح باندھے رکھتے ہیں اور بالمقابل نرو (Nerve) کے لفظ میں بجز لفظ کے کچھ بھی نہیں۔اس پر حضرت نے فرمایا۔یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا معجزہ ہے کہ الفاظ کے اندر علمی باتیں بھری ہوئی ہیں اور عربی زبان اسی لئے خاتم الالسنہ ہے۔چونکہ قرآن جیسا عظیم الشان معجزہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا اس لئے اس کی عظمت علمی پہلو سے بہت بڑی ہے۔