ملفوظات (جلد 1) — Page 250
تصنیفات کا سلسلہ اور توسیع زبان کی خدمت کا سلسلہ جاری ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔دوسری طرف جب عیسائیوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے حیران ہی ہونا پڑتا ہے کہ حواریوں نے عیسائی ہوکر کیا ترقی کی۔یہودہ اسکریوطی جو یسوع کا خزانچی تھا۔کبھی کبھی تغلب بھی کر لیا کرتا تھا اور تیس روپیہ لے کر استاد کو پکڑوانا تو اس کا ظاہر ہی ہے۔یسوع کی تھیلی میں دو ہزار روپیہ رہا کرتے تھے۔ایک طرف تو ان کا یہ حال ہے بالمقابل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال کہ بوقت وفات پوچھا کہ کیا گھر میں کچھ ہے۔جناب عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ ایک دینار ہے۔حضور نے فرمایا کہ اسے تقسیم کر دو۔کیا یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ کا رسول خدا تعالیٰ کی طرف سفر کرے اور گھر میں ایک دینار چھوڑ جاوے۔مجھے تو حیران ہی ہونا پڑتا ہے کہ عیسائی لوگ فلسفہ فلسفہ پکارتے ہیں۔ان کی الٰہیات کی فلاسفی خدا جانے کہاں گئی۔کفّارہ ہی کو دیکھو۔ایک تصوری جانور کی طرح ہے۔کفّارہ نے کیا بنایا۔علمی دلائل کو چھوڑ دیا جاوے تو بھی دیکھو کہ حواریوں کی نہ تو علمی اصلاح ہوئی اور نہ عملی۔علمی اصلاح کے لئے تو انجیل نے خود فیصلہ کر دیا کہ وہ موٹی عقل والے تھے اور کم فہم اور لالچی تھے اور عملی اصلاح کا خاکہ بھی انجیل ہی نے کھینچ کر دکھلا دیا کہ کوئی لعنتیں بھیجتا ہے اور کوئی تیس روپیہ پر پکڑواتا ہے اور کیا کچھ گناہ کے آثار۔تاریکی اور ظلمت تو اس دنیا ہی میں شروع ہو جاتی ہے۔جیسے فرمایا مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنی اسـرآءیل :۷۳) اب یسوع کے شاگردوں کو دیکھو کہ کیا ان کی حالت میں تبدیلی ہوئی۔گناہ کے دور ہونے سے تو ایک قسم کی بصیرت اور روشنی پیدا ہوتی ہے مگر ان میں کہاں۔پھر کفّارہ نے کیا بنایا۔۴۶؎ ۲۶؍ستمبر۱۸۹۸ء کامیابی کی بشارت ۲۶ ؍ستمبر کی صبح کو بعد نماز فجر حضرت اقدس نے فرمایا کہ اب میری حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اگر کوئی خواب بھی آتا ہے تو میں اسے اپنی ذات یا نفس سے مخصوص نہیں سمجھتا بلکہ اسلام اور اپنی جماعت ہی کے متعلق سمجھتا