ملفوظات (جلد 1) — Page 238
تو تپ بھی کم ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ اچھا ہو جاتا ہے۔بہرحال یہ مرض مہلک اور خوفناک ہے اور یہی وجہ ہے کہ گورنمنٹ باجودیکہ وہ سچی ہمدردی اور پوری غم خواری کے ساتھ رعیت کی بھلائی میں مصروف ہے مگر بدنام ہو گئی ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ گورنمنٹ کو جلد خبر نہیں ملتی ہے اور اگر ملتی بھی ہے تو کیا کیا جاوے؟ مریض اس کے اختیار میں نہیں۔جہاں تک نیک نیتی اور بنی نوع انسان کی اس غمخواری کے خیال سے جو خود اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈال رکھا ہے میں نے ان تجاویز پر جو گورنمنٹ نے مریضانِ طاعون کے متعلق شائع کی ہیں۔غور کیا ہے اور میں بلا خوف لَوم لائم کہتا ہوں کہ یہ تجاویز بہت ہی مناسب اور موزوں ہیں۔مثلاً یہ کہ اس گھر کو یا بعض اوقات عند الضرورت محلہ کو خالی کیا جاوے اور مریض کو الگ رکھا جاوے۔یہ سب بالکل ٹھیک اور درست ہیں۔ہاں اگر کوئی یہ کہے کہ بچہ اگر طاعون کا بیمار ہو اور وہ قواعد کے رو سے علیحدہ کیا جاوے تو ماں باپ سے جدا ہو کر وہ مَر جاوے گا لیکن ایسا اعتراض کرنے والوں کو معلوم ہو کہ ماں باپ اس کے ساتھ جا سکیں گے مگر وہ بھی اس کے ساتھ طاعون ہی کے مریض قرار دیئے جاویں گے۔اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ گورنمنٹ کی نیت بالکل نیک ہے وہ لوگوں کو تفرقہ میں ڈالنا نہیں چاہتے۔گورنمنٹ نے بدنیتی یا برائی کے خیال سے ایسا نہیں کیا۔اُولی الامر کی اطاعت اور میری تو سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ گورنمنٹ کو فائدہ کیا ہو سکتا ہے۔قرآن میں حکم ہے اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ (النساء:۶۰) اب اُولِي الْاَمْرِ کی اطاعت کا صاف حکم ہے۔اگر کوئی کہے کہ گورنمنٹ مِنْكُمْ میں داخل نہیں تو یہ اس کی صریح غلطی ہے۔گورنمنٹ جو بات شریعت کے موافق کرتی ہے وہ مِنْكُمْ میں داخل ہے۔جو ہماری مخالفت نہیں کرتا وہ ہم میں داخل ہے۔اشارۃ النص کے طور پر قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہیے اور اس کی باتیں مان لینی چاہئیں۔عام طور پر مسلمانوں کو تو یہ چاہیے تھا کہ انسداد طاعون کے متعلق شکر گزاریٔ گورنمنٹ کے میموریل بھیجتے۔بجائے شکر گزاری کے ناشکر گزاری ہوئی اور کوئی وجہ ناراضی کی بجز اس کے نہیں معلوم ہوتی کہ عورتوں کی نبضیں دیکھتے ہیں۔اول تو گورنمنٹ نے اس اعتراض پر پوری توجہ کرکے اس کو رفع بھی کر دیا اور