ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 16

چونکہ ان کا ذکر قرآن میں آگیا اس لئے ہم ان کو نبی مانتے ہیں واِلَّا انجیل میں تو ان کا کوئی ایسا خلق ثابت نہیں جیسے اولوالعزم انبیاء کی شان ہوتی ہے۔ایسا ہی ہمارے ہادی کامل بھی اگر ابتدائی تیرہ برس کے مصائب میں مر جاتے تو ان کے اور بہت سے اخلاق فاضلہ مسیح کی طرح ثابت نہ ہوتے لیکن دوسرا زمانہ جب فتح کا آیا اور مجرم آپؐ کے سامنے پیش کئے گئے اس سے آپؐ کی صفت رحم اور عفو کا کامل ثبوت ملا اور اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ آپؐ کے کام کوئی جبر پر نہ تھے، نہ زبردستی تھی بلکہ ہر ایک امر اپنے طبعی رنگ میں ہوا۔اسی طرح آپؐ کے اور بہت سے اخلاق بھی ثابت ہیں۔سو اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا کہ نَحْنُ اَوْلِـيٰٓـؤُ كُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ (حٰمٓ السجدۃ: ۳۲) کہ ہم اس دنیا میں بھی اور آئندہ بھی متّقی کے ولی ہیں سو یہ آیت بھی تکذیب میں ان نادانوں کی ہے جنہوں نے اس زندگی میں نزول ملائکہ سے انکار کیا۔اگر نزع میں نزول ملائکہ تھا تو حیات الدنیا میں خدا تعالیٰ کیسے ولی ہوا۔متّقی کو آئندہ زندگی یہیں دکھلائی جاتی ہے سو یہ ایک نعمت ہے کہ ولیوں کو خدا کے فرشتے نظر آتے ہیں آئندہ کی زندگی محض ایمانی ہے لیکن ایک متّقی کو آئندہ کی زندگی یہیں دکھلائی جاتی ہے۔انہیں اسی زندگی میں خدا ملتا ہے۔نظر آتا ہے۔ان سے باتیں کرتا ہے سو اگر ایسی صورت کسی کو نصیب نہیں تو اس کا مرنا اور یہاں سے چلے جانا نہایت خراب ہے۔ایک ولی کا قول ہے کہ جس کو ایک خواب سچا عمر میں نصیب نہیں ہوا اس کا خاتمہ خطرناک ہے جیسے کہ قرآن مومن کے یہ نشان ٹھہراتا ہے۔سنو! جس میں یہ نشان نہیں اس میں تقویٰ نہیں سو ہم سب کی یہ دعا چاہیے کہ یہ شرط ہم میں پوری ہو۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام، خواب، مکاشفات کا فیضان ہو کیونکہ یہ مومن کا خاصہ ہے۔سو یہ ہونا چاہیے۔بہت سی اور بھی برکات ہیں جو متّقی کو ملتی ہیں مثلاً سورۂ فاتحہ میں جو قرآن کے شروع میں ہی ہے اللہ تعالیٰ مومن کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ دعا مانگیں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ (الفاتحۃ: ۶، ۷) یعنی ہمیں وہ راہ سیدھی بتلا ان لوگوں کی جن پر تیرا انعام و فضل ہے۔یہ اس لئے سکھلائی گئی کہ انسان عالی ہمت ہو کر اس سے خالق کا منشا