ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 230

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۰ جلد اول اللہ تعالیٰ نے اس کا نام رجز رکھا ہے۔ رجز عذاب کو بھی کہتے ہیں ۔ طاعون عذاب ہے لغت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اونٹ کی بین ران میں یہ مرض ہوتا ہے اور اس میں ایک کیڑا پڑ جاتا ہے جسے نغف کہتے ہیں۔ اس سے ایک لطیف نکتہ سمجھ میں آتا ہے کہ چونکہ اونٹ کی وضع میں ایک قسم کی سرکشی پائی جاتی ہے۔ تو اس سے یہ پایا گیا کہ جب انسانوں میں وہ سرکشی کے دن پائے جاویں تو یہ عذاب الیم ان پر نازل ہوتا ہے۔ اور ڈنجز کے معنے لغت میں دوام کے بھی آئے ہیں۔ اور یہ مرض بھی دیر پا ہوتا ہے اور گھر سے سب کو رخصت کر کے نکلتا ہے۔ اس میں یہ بھی دکھایا ہے کہ یہ بلاگھروں کی صفائی کرنے والی ہے بچوں کو یتیم بناتی اور بے شمار بیکس عورتوں کو بیوہ کر دیتی ہے۔ اور رجز کے معنے میں غور کرنے غیر صحت مندانہ ماحول بھی طاعون کا باعث ہے۔ سے اس کا باعث بھی سمجھ میں آتا ہے کہ یہ مرض پلیدی اور ناپاکی سے پیدا ہوتا ہے۔ جہاں اچھی صفائی نہیں ہوتی ، مکان کی دیواریں بدنما اور قبروں کا نمونہ ہیں، نہ روشنی ہے نہ ہوا آ سکتی ہے، وہاں عفونت کا زہریلا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ قرآن کریم میں جو آیا ہے وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ ( المدثر : ٦ ) ہر ایک قسم کی پلیدی سے پر ہیز کرو۔ ہجر دور چلے جانے کو کہتے ہیں ۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ روحانی پاکیزگی چاہنے والوں کے لئے ظاہری پاکیزگی اور صفائی بھی ضروری ہے۔ کیونکہ ایک قوت کا اثر دوسری پر اور ایک پہلو کا اثر دوسرے پر ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ظاہری پاکیزگی کا اثر باطن پر دو حالتیں ہیں جو باطنی حالت تقویٰ اور طہارت پر قائم ہونا چاہتے ہیں وہ ظاہری پاکیزگی بھی چاہتے ہیں۔ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ ( البقرة: ٢٢٣) یعنی جو باطنی اور ظاہری پاکیزگی کے طالب ہیں میں ان کو دوست رکھتا ہوں ۔ ظاہری پاکیزگی باطنی طہارت کی محمد اور معاون ہے۔ اگر انسان اس کو چھوڑ دے اور پاخانہ پھر کر بھی طہارت نہ کرے تو