ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 226

بوڑھا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی مرضی کی درانتی اسے وقتاً فوقتاً مصلحت سے کاٹتی جاتی ہے کبھی بچے مَرتے ہیں جن کو کہتے ہیں کہ اٹھرا سے مَرتے ہیں۔صحیح البدن توانا و تندرست جوان بھی مَرتے ہیں۔عمر رسیدہ ہو کر پیر ناتواں بھی آخر اُٹھ جاتے ہیں۔غرض یہ سلسلہ قطع و برید کا دنیا میں ایسا جاری ہے جو ہر آن انسان کو سبق دیتا ہے کہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں۔پس یہ بھی ایک دلیل اس زمانہ کی آمد پر ہے۔اس کے علاوہ ایک اور دلیل خدا تعالیٰ نے اس زمانہ کی حقِّیَّت کو سمجھانے کے لئے پیش کی ہے اور وہ انبیاء علیہم السلام کے قہری معجزات ہیں جن سے ایک ایک وقت دنیا کے تختے الٹ گئے۔اور خلقت کا نام و نشان تک قریباً مٹ گیا ہے۔انسان خدا تعالیٰ کے قہر کے ہاتھ میں ہے جب چاہے وہ نابود کر دے۔پھر اس کو اور دلیل کے رنگ میں پیش کیا ہے کہ بعض امراض اس ہیبت اور شدت سے پھیلتی ہیں کہ جنہوں نے ان کا دورہ دیکھا ہوگا وہ کہہ سکتے ہیں کہ قیامت ہی کا نمونہ ہوتا ہے۔منجملہ ان امراضِ شدیدہ کے ایک طاعون بھی ہے جو اس وقت ہمارے ملک میں پڑی ہوئی ہے جس نے کراچی، بمبئی میں بہت کچھ صفائی کر دی ہے اور پہاڑ پر بھی پالم پور سے اور کلکتہ سے بھی طاعون کی متوحش خبریں موصول ہوئی ہیں۔غرض ایک بڑا بھاری خطرہ ہے جو اس وقت سامنے ہے۔اور اس تقریر کے بیان کرنے سے یہ غرض ہے کہ چونکہ انسان کو بڑے بڑے ابتلا آتے رہتے ہیں جیسا خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ۔۔۔الایۃ(البقرۃ:۱۵۶) ہم تمہیں آزماتے رہیں گے کبھی ڈر سے اور کبھی مالوں میں نقصان کرنے سے اور کبھی ثمرات کو تلف کرنے سے۔اتلافِ ثمرات سے مراد اتلاف ثمرات سے مراد تفاسیر میں اولاد بھی لکھی ہے اور اس میں کوششوں کا ضائع ہونا بھی شامل ہے۔مثلاً حصول علم کی کوشش، تجارت میں کامیابی کی کوشش، زمینداری کی کوشش۔غرض ان کوششوں کا ضائع ہونا بڑی مصیبت ہوتی ہے۔ہر وقت انسان کو خیال ہوتا ہے کہ کامیاب ہو جاؤں گا۔آخر خدا تعالیٰ کے علم میں ان کی مصلحت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ وہ ناکام رہے یا کھیتی نہیں لگتی یا تجارت میں کامیاب نہیں ہوتے۔