ملفوظات (جلد 1) — Page 223
یکم مئی۱۸۹۸ء خلاف اسلام کتابوں کی ضبطی جناب مولانا مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کے وہ میموریل پڑھ چکنے کے بعد جو حضرت مسیح موعودؑ نے انجمن حمایت اسلام کے میموریل دربارہ امہات المومنین کی اصلاح کی غرض سے لکھا تھا۔حضرت اقدس ؑ نے بآواز بلند فرمایا۔چونکہ یہ میموریل اسلام اور اہل اسلام کی حمایت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی عزت اور قرآن کریم کی عظمت قائم کرنے اور اسلام کی پاکیزہ اور اصفیٰ شکل کو دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے اس لئے اس کے آپ کے سامنے پڑھے جانے سے صرف یہ غرض ہے کہ تا آپ لوگوں سے بطور مشورہ دریافت کیا جاوے کہ آیا مصلحت وقت یہ ہے کہ کتاب کا جواب لکھا جاوے یا میموریل بھیج کر گورنمنٹ سے استدعا کی جاوے کہ وہ ایسے مصنّفین کو سرزنش کرے اور اشاعت بند کرے۔پس آپ لوگوں میں سے جو کوئی نکتہ چینی اس پر کرنی چاہے وہ نہایت آزادی اور شوق سے کر سکتا ہے۔(مجمع میں سے) صرف ایک شخص بولا اور کہا کہ اگر کتاب کی اشاعت بند نہ ہوئی تو ہمیشہ تک طبع ہوتی رہے گی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔اگر ہم واقعی طور پر کتاب کی اشاعت بند نہ کریں جو اس کے ردّ کرنے کی صورت میں ہو سکتی ہے تو گورنمنٹ سے ایک بار نہیں ہزار دفعہ اس قسم کی مدد لے کر اس کی اشاعت بند کی جاوے وہ رک نہیں سکتی۔اگر اس تھوڑے عرصہ کے لئے وہ برائے نام بند بھی ہو جاوے تو پھر بھی بہت سی کمزور طبیعت کے انسانوں اور بعض آنے والی نسلوں کے لئے یہ تجویز زہر قاتل ہوگی کیونکہ جب ان کو یہ معلوم ہوگا کہ فلاں کتاب کا جواب جب نہ ہو سکا تو اس کے لئے گورنمنٹ سے بند کرانے کی کوشش کی۔اس سے ایک قسم کی بد ظنّی اپنے مذہب کی نسبت پیدا ہو گی۔پس میرا یہ اصول رہا ہے کہ