ملفوظات (جلد 1) — Page 224
ایسی کتابوں کا جواب دیا جاوے اور گورنمنٹ کی ایک سچی امداد یعنی آزادی سے فائدہ اٹھایا جاوے اور ایسا کافی جواب دیا جاوے کہ خود ان کو اشاعت کرتے ہوئے ندامت معلوم ہو۔دیکھو جیسے ہمارے مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں جب ان کو معلوم ہو گیا کہ مقدمہ میں جان نہیں رہی اور مصنوعی جادو کا پُتلا ٹوٹ گیا تو انہوں نے آتھم کی بیوی اور داماد جیسے گواہ بھی پیش نہ کیے۔پس میری رائے یہی ہے اور میرے دل کا فتویٰ یہی ہے کہ اس کا دندان شکن جواب نہایت نرمی اور ملاطفت سے دیا جاوے۔پھر خدا چاہے گا تو ان کو خود ہی جرأت نہ ہوگی۔۳۸؎ ۲ ؍مئی۱۸۹۸ء بروز عید مقام قادیان زیر درخت بڑ۔جانب شرقیہ۔بعد نماز عید بتقریب جلسہ طاعون۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔دنیا فانی ہے آپ سب صاحبوں کو معلوم ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ نے قرآن شریف میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث میں بھی فرمایا ہے کہ ایک زمانہ ایسا گزرا ہے کہ انسان، حیوان، چرند، پرند، زمین، آسمان اور جو کچھ زمین آسمان میں ہے کسی چیز کا نام و نشان نہ تھا۔صرف خدا ہی تھا۔یہ اسلام کا عقیدہ ہے۔وَلَمْ یَکُنْ مَعَہٗ شَيْـًٔا یعنی خدا کے ساتھ اور کوئی چیز نہ تھی۔ہم کو اس نے قرآن اور حدیث کے ذریعہ خبر دی ہے کہ ایک زمانہ اور بھی آنے والا ہے جبکہ خدا کے ساتھ کوئی نہ ہوگا۔وہ زمانہ بڑا خوفناک زمانہ ہے۔چونکہ اس پر ایمان لانا ہر مومن اور مسلمان کا کام ہے جو اس پر ایمان نہیں لاتا وہ مسلمان نہیں کافر ہے اور بے ایمان ہے جس طرح سے بہشت، دوزخ، انبیاء علیہم السلام اور کتابوں پر ایمان لانے کا حکم ہے ویسا ہی اس ساعت پر ایمان لانا لازم ہے جب نفخِ صور ہو کر سب نیست و نابود ہو جاویں گے۔یہ سنت اللہ اور عادت اللہ ہے۔