ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 15

پہاڑ ٹوٹ پڑیں وہ اپنے ارادہ کو نہیں چھوڑتے۔کامل نمونہ اخلاق ہمارے ہادی کامل کو یہ دونو باتیں دیکھنی پڑیں۔ایک وقت تو طائف میں پتھر برسائے گئے۔ایک کثیر جماعت نے سخت سے سخت جسمانی تکلیف دی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استقلال میں فرق نہ آیا۔جب قوم نے دیکھا کہ مصائب و شدائد سے ان پر کوئی اثر نہ پڑا تو انہوں نے جمع ہو کر بادشاہت کا وعدہ دیا۔اپنا امیر بنانا چاہا۔ہر ایک قسم کے سامان آسائش مہیا کر دینے کا وعدہ کیا۔حتی کہ عمدہ سے عمدہ بی بی بھی۔بدیں شرط کہ حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) بتوں کی مذمت چھوڑ دیں لیکن جیسے کہ طائف کی مصیبت کے وقت ویسی ہی اس وعدہ بادشاہت کے وقت حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کچھ پروا نہ کی اور پتھر کھانے کو ترجیح دی۔سو جب تک خاص لذت نہ ہو تو کیا ضرورت تھی کہ آرام چھوڑ کر دکھوں میں پڑتے۔یہ موقع سوا ہمارے رسول علیہ الصلوٰۃ والتحیات کے کسی اور نبی کو نہ ملا کہ ان کو نبوت کا کام چھوڑنے کے لئے کوئی وعدہ دیا گیا ہو۔مسیح (علیہ السلام) کو بھی یہ امر نصیب نہ ہوا۔دنیا کی تاریخ میں صرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ہی یہ معاملہ ہوا کہ آپؐ کو سلطنت کا وعدہ دیا گیا اگر آپ اپنا کام چھوڑ دیں۔سو یہ عزت ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی خاص ہے۔اسی طرح ہمارے ہادی کامل کو دونوں زمانے تکلیف اور فتح مندی کے نصیب ہوئے تاکہ وہ دونوں اوقات میں کامل نمونہ اخلاق کا دکھا سکیں۔اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے لئے چاہا ہے کہ ہر دو لذتیں اٹھائیں۔بعض وقت دنیوی لذّات، آرام اور طیّبات کے رنگ میں بعض وقت عسرت اور مصائب میں تاکہ ان کے دونوں اخلاق کامل نمونہ دکھا سکیں۔بعض اخلاق طاقت میں اور بعض مصائب میں کھلتے ہیں۔ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ دونوں باتیں میسر آئیں۔سو جس قدر ہم آپؐ کے اخلاق پیش کر سکیں گے کوئی اور قوم اپنے کسی نبی کے اخلاق پیش نہ کرسکے گی۔جیسے مسیحؑ کا صرف صبر ظاہر ہو سکتا ہے کہ وہ مار کھاتا رہا لیکن یہ کہاں سے نکلے گا کہ ان کو طاقت نصیب ہوئی۔وہ نبی بے شک سچے ہیں لیکن ان کے ہر قسم کے اخلاق ثابت نہیں۔