ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 220

نماز عید شہر میں پڑھنے کی تعبیر منشی رستم علی کورٹ انسپکٹر دہلی کے خواب کی تعبیر میں فرمایا کہ نماز عید شہر میں پڑھنا بہت بڑی کامیابی ہے۔اَبُوْ لَهَب اور حَمَّالَةَ الْحَطَبْ سے مراد ابولہب قرآن کریم میں عام ہے نہ خاص۔مراد وہ شخص ہے جس میں اِلتہاب و اشتعال کا مادہ ہو اسی طرح حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ہیزم کش عورت سے مراد ہے۔جو سخن چین ہو۔آگ لگانے والی چغل خور عورت آدمیوں میں شرارت کو بڑھاتی ہے۔سعدی کہتا ہے سخن چین بد بخت ہیزم کش است # سورۃ تَبَّت پر اعتراض سن کر فرمایا دنیا کی دولت اور سلطنت رشک کا مقام نہیں۔مگر رشک کا مقام دعا ہے۔میں نے اپنے احباب حاضرین اور غیر حاضرین میں سے جن کے نام یاد آئے یا شکل یاد آئی آج بہت دعا کی اور اتنی دعا کی کہ اگر خشک لکڑی پر کی جاتی تو سر سبز ہو جاتی۔ہمارے احباب کے لئے یہ بڑی نشانی ہے۔رمضان کا مہینہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ گزر گیا۔عافیت اور تندرستی سے یہ دن حاصل رہے۔پھر اگلا سال خدا جانے کس کو آئے گا۔کس کو معلوم ہے کہ اگلے سال کون ہوگا۔پھر کس قدر افسوس کا مقام ہوگا اگر اپنی جماعت کے ان لوگوں کو فراموش کر دیا جاوے جو انتقال کر گئے ہیں۔یہ ایسے وقت میں فرمایا کہ جب فہرست میں زندوں کے نام ثبت ہو رہے تھے۔ظاہر پرستی گمراہی کا موجب ہے ظاہر پرستی سے یہودیوں پر یہ آفت آئی کہ وہ مسیح علیہ السلام کا انکار کرتے رہے اور نہ صرف یہی بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی انکار کرتے رہے۔ان کو یہ خیال تھا کہ مسیح آئے گا تو ایک بادشاہ ہو کر آئے گا اور بڑی شان و شوکت سے تخت داؤد پر جلوہ افروز ہوگا اور اس کے آنے سے پیشتر ایلیا آسمان سے اترے گا، مگر جب مسیح آیا تو اس نے ایلیا تو یوحنا کو بتایا اور آپ بجائے بادشاہ ہونے