ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 212

ملے گی اور ان میں قبولیت کا نفخ ہوگا۔غرض یہ ایک زمانہ ماموروں اور مرسلوں اور ان لوگوں پر جن کے ساتھ مکالمات الٰہیہ کا ایک تعلق ہوتا ہے آتا ہے اور اس سے غرض اللہ تعالیٰ کی یہ ہوتی ہے کہ تا ان کو محبت کی چاشنی اور قبولیت دعا کے ذوق سے حصہ دے اور ان کو اعلیٰ مدارج پر پہنچا دے تو یہاں جو ضحیٰ اور لیل کی قَسم کھائی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدارجِ عالیہ اور مراتبِ محبت کا اظہار ہے اور آگے پیغمبرؐ خدا کا اِبراء کیا کہ دیکھو دن اور رات جو بنائے ہیں ان میں کس قدر وقفہ ایک دوسرے میں ڈال دیا ہے۔ضحی کا وقت بھی دیکھو اور تاریکی کا وقت بھی خیال کرو۔مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ (الضُّحٰی:۴) خدا تعالیٰ نے تجھے رخصت نہیں کر دیا۔اس نے تجھ سے کینہ نہیں کیا بلکہ ہمارا یہ ایک قانون ہے۔جیسے رات اور دن کو بنایا ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بھی ایک قانون ہے کہ بعض وقت وحی کو بند کر دیا جاتا ہے تاکہ ان میں دعاؤں کے لیے زیادہ جوش ۲۸؎ پیدا ہو۔اور ضحی اور لیل کو اس لیے بطور شاہد بیان فرمایا۔تاآپؐ کی امید وسیع ہو اور تسلی اور اطمینان پیدا ہو۔مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان قسموں کے بیان کرنے سے اصل مدعا یہ رکھا ہے کہ تا بدیہات کو نظریات کے ذریعہ سمجھاوے۔۲۹؎ اب سوچ کر دیکھو کہ یہ کیسا پُر حکمت مسئلہ تھا مگر ان بدبختوں نے اس پر بھی اعتراض کیا۔چشم بداندیش کہ بر کندہ باد عیب نماید ہنرش در نظر # ان قَسموں میں ایسا فلسفہ بھرا ہوا ہے کہ حکمت کے ابواب کھلتے ہیں۔اس زمانہ کا جہاد غرض یہ حرب ہمارا کام ہے جس کی آج ضرورت ہے۔اس سے علوم کے دروازے بھی کھلتے ہیں اور مخالف بھی حجت اور بیّنہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔اور یہ خدا کا فضل ہے کہ پنجاب کے لوگ جن معارف اور حقائق سے آگاہ ہوتے جاتے ہیں بلادِ شام اور دیگر ممالک اسلامیہ میں ان کا نام و نشان تک نہیں ہے۔اس لئے ہم پر تو یہ مصیبت آچکی ہے۔ہر طرف سے حملہ پر حملہ ہو رہا ہے۔اس لئے ہم کو قوتِ متفکرہ سے کام لینا پڑتا ہے اور دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے حضور ان مشکلات کو پیش کرنا پڑتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ محض