ملفوظات (جلد 1) — Page 211
نہ رکھتا اور اس کو دوسرے مذاہب پر کوئی خصوصیت اور فضیلت نہ ہوتی۔جیسے ہندو اپنے بزرگوں سے منسوب خوارق کو پرانوں اور شاستروں میں لکھا ہوا بیان کرتے ہیں اور دکھا کچھ نہیں سکتے اسی طرح پر اسلام کے اعجازی نشانوں کا ذکر مسلمانوں کی کتابوں ہی میں بتاتے اور دکھا کچھ نہ سکتے تو دوسرے مذاہب پر اس کو کیا فضیلت رہتی اور انسان کی فطرت اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ اگر اسے دوسرے پر کوئی فضیلت نظر نہ آئے تو اس سے بے رغبتی اور بے دلی ظاہر کرتا ہے۔اس طرح پر گویا اسلام سے ایک قسم کا ضعفِ ایمان پیدا ہوتا کیونکہ بدوں فضیلت کے ایمان قوی رہ سکتا ہی نہیں۔اس لئے نبوت کی زراعت کے واسطے ولایت ایک باڑ لگا دی گئی ہے۔پس غور کر کے دیکھو کہ قَسم پر اعتراض کرنے والوں کا جواب کیسا صاف اور لطیف ہے۔فترت وحی کی حکمت اس مضمون کو دیکھ کر انسان کس قدر انشراح کے ساتھ قبول کرسکتا ہے کہ قرآن کریم کس قدر عالی مضامین کو کیسے انداز اور طرز سے بیان کرتا ہے۔پھر قرآن شریف میں ایک مقام پر رات کی قَسم کھائی ہے۔کہتے ہیں کہ یہ اس وقت کی قَسم ہے جب وحی کا سلسلہ بند تھا۔یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک مقام ہے جو ان لوگوں کے لئے جو سلسلہ وحی سے افاضہ حاصل کرتے ہیں آتا ہے۔وحی کے سلسلہ سے شوق اور محبت بڑھتی ہے لیکن مفارقت میں بھی ایک کشش ہوتی ہے جو محبت کے مدارج عالیہ پر پہنچاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی ایک ذریعہ قرار دیا ہے کیونکہ اس سے قلق اور کرب میں ترقی ہوتی ہے اور روح میں ایک بے قراری اور اضطراب پیدا ہوتا ہے جس سے وہ دعاؤں کی روح اس میں نفخ کی جاتی ہے کہ وہ آستانہ الوہیت پر یاربّ! یا ربّ!! کہہ کر اور بڑے جوش اور شوق اور جذبہ کے ساتھ دوڑتی ہے۔جیسا کہ ایک بچہ جو تھوڑی دیر کے لئے ماں کی چھاتیوں سے الگ رکھا گیا ہو بے اختیار ہو ہوکر ماں کی طرف دوڑتا اور چلّاتا ہے اسی طرح پر بلکہ اس سے بھی بے حد اضطراب کے ساتھ روح اللہ کی طرف دوڑتی ہے اور اس دوڑ دھوپ اور قلق و کرب میں وہ لذّت اور سرور ہوتا ہے جس کو ہم بیان نہیں کر سکتے۔یاد رکھو! روح میں جس قدر اضطراب اور بے قراری خدا تعالیٰ کے لئے ہوگی اسی قدر دعاؤں کی توفیق