ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 200

ایک ضروری امر اور بیان کرنا چاہتے ہیں۔کیا ہندوستان دارالحرب ہے؟ ہر ایک مسلمان کو یاد رہے کہ ہم بلحاظ گورنمنٹ کے ہندوستان کو دار الحرب نہیں کہتے اور یہی ہمارا مذہب ہےـ اگرچہ اس مسئلہ میں علماء مخالفین نے ہم سے سخت اختلاف کیا ہے اور اپنی طرف سے کوئی دقیقہ ہم کو تکلیف دہی کا انھوں نے باقی نہیں رکھا مگر ہم ان عارضی تکالیف اور آنی ضرر رسانیوں کے خوف سے حق کو کیونکر چھوڑ سکتے ہیں۔ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ حکومت کے لحاظ سے ہندوستان ہرگز ہرگز دارالحرب نہیں ہے۔ہمارا مقدمہ ہی دیکھ لو۔اگر یہی مقدمہ سکھوں کے عہد حکومت میں ہوتا اور دوسری طرف ان کا کوئی گرو یا برہمن ہوتا تو بدوں کسی قسم کی تحقیق و تفتیش کے ہم کو پھانسی دے دینا کوئی بڑی بات نہ تھی مگر انگریزوں کی سلطنت اور عہد حکومت ہی کی یہ خوبی ہے کہ مقابل میں ایک ڈاکٹر اور پھر مشہور پادری ہے لیکن تحقیقات اور عدالت کی کارروائی میں کوئی سختی کا برتائو نہیں کیا جاتا۔کیپٹن ڈگلس نے اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کی کہ پادری صاحب کی ذاتی وجاہت یا ان کے اپنے عہدہ اور درجہ کا لحاظ کیا جاوے چنانچہ انہوں نے لیمارچنڈ صاحب سے جو پولیس گورداسپور کے اعلیٰ افسر ہیں یہی کہا کہ ہمارا دل تسلّی نہیں پکڑتا۔پھر عبدالحمید سے دریافت کیا جاوے۔آخرکار انصاف کی رو سے ہم کو اس نے بَری ٹھیرایا۔پھر یہ لوگ ہم کو ارکان مذہب کی بجا آوری سے نہیں روکتے بلکہ بہت سے برکات اپنے ساتھ لے کر آئے جس کی وجہ سے ہم کو اپنے مذہب کی اشاعت کا خاطر خواہ موقع ملا اور اس قسم کا امن اور آرام نصیب ہوا کہ پہلی حکومتوں میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔پھر یہ صریح ظلم اور اسلامی تعلیم اور اخلاق سے بعید ہے کہ ہم ان کے شکر گزار نہ ہوں۔یاد رکھو! انسان جو اپنے جیسے انسان کی نیکیوں کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ خدا تعالیٰ کا بھی شکر گزار نہیں ہوسکتا حالانکہ وہ اسے دیکھتا ہے۔تو غیب الغیب ہستی کے انعامات کا شکر گزار کیوں کر ہوگا جس کو وہ دیکھتا بھی نہیں اس لیے محض حکومت کے لحاظ سے ہم اس کو دارالحرب نہیں کہتے۔ہاں! ہمارے نزدیک ہندوستان دارالحرب ہے بلحاظ قلم کے۔پادری لوگوں نے اسلام کے