ملفوظات (جلد 1) — Page 185
سُرور بخش کیفیت ہے کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ میں کن الفاظ میں اس لذّت اور سُرور کو دنیا کو سمجھاؤں۔یہ تو محسوس کرنے ہی سے پتا لگے گا۔مختصر یہ کہ دعا کے لوازمات سے اول ضروری یہ ہے کہ اعمالِ صالحہ اور اعتقاد پیدا کریں کیونکہ جو شخص اپنے اعتقادات کو درست نہیں کرتا اور اعمال صالحہ سے کام نہیں لیتا اور دعا کرتا ہے وہ گویا خدا تعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔تو بات یہ ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی دعا میں یہ مقصود ہے کہ ہمارے اعمال کو اکمل اور اتم کر اور پھر یہ کہہ کر کہ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اور بھی صراحت کردی کہ ہم اس صراط کی ہدایت چاہتے ہیں جو منعم علیہ گروہ کی راہ ہے اور مغضوب گروہ کی راہ سے بچا جن پر بداعمالیوں کی وجہ سے عذابِ الٰہی آگیا اور اَلضَّالِّیْن کہہ کر یہ دعا تعلیم کی کہ اس سے بھی محفوظ رکھ کہ تیری حمایت کے بِدُوں بھٹکتے پھریں۔ایک اور بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس جگہ لف و نشر مرتب ہے۔اول اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اللہ مستجمع جمیع صفات کاملہ، ہر ایک خوبی کو اپنے اندر رکھنے والا اور ہر ایک عیب اور نقص سے منزّہ۔دوم رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔سوم الرَّحْمٰنِ۔چہارم الرَّحِيْمِ۔پنجم مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔اب اس کے بعد جو درخواستیں ہیں وہ ان پانچوں کے ماتحت ہیں۔اب سلسلہ یوں شروع ہوتا ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ۔یہ فقرہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کے مقابل ہے۔یعنی اے اللہ تُو جو ساری صفاتِ حمیدہ کا جامع ہے اور تمام بدیوں سے منزّہ ہے تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔مسلمان اس خدا کو جانتا ہے جس میں وہ تمام خوبیاں جو انسانی ذہن میں آسکتی ہیں موجود ہیں اور اس سے بالاتر اور بالاتر ہے کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسانی عقل اور فکر اور ذہن خدا تعالیٰ کی صفات کا احاطہ ہرگز ہرگز نہیں کرسکتے۔ہاں تو مُسلمان ایسے کامل الصفات خدا کو مانتا ہے۔ہندوؤں کے نزدیک خدا کا تصور تمام قومیں مجلسوں میں اپنے خدا کا ذکر کرتے ہوئے شرمندہ ہوجاتی ہیں اور اُنہیں شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔مثلاً ہندوؤں کا خدا جو اُنہوں نے مانا ہے اور کہا ہے کہ ویدوں سے ایسے خدا ہی کا پتا لگتا ہے۔جب اس کی نسبت وہ یہ ذکر کریں گے کہ اُس نے دنیا کا ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا اور نہ اس نے روحوں کو