ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 184

خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ مَیں قبولیت دعا کا نمونہ دکھانے لئے ہر وقت طیار ہوں۔۲۲؎ تو غرض یہ ہے کہ قانون قدرت میں قبولیت دعا کی نظیریں موجود ہیں اور ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ زندہ نمونے بھیجتا ہے۔اسی لئے اس نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتـحۃ:۷،۶) کی دعا تعلیم فرمائی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا منشا اور قانون ہے اور کوئی نہیں جو اس کو بدل سکے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی دعا سے پایا جاتا ہے کہ ہمارے اعمال کو اکمل اور اَتم کر۔ان الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر تو اشارۃ النص کے طور پر اس سے دعا کرنے کا حکم معلوم ہوتا ہے کہ صراط مستقیم کی ہدایت مانگنے کی تعلیم ہے لیکن اس کے سر پر اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ (الفاتـحۃ:۵) بتارہا ہے کہ اس سے فائدہ اُٹھائیں یعنی صراطِ مستقیم کے منازل کے لئے قوائے سلیم سے کام لے کر استعانتِ الٰہی کو مانگنا چاہیے۔پس ظاہری اسباب کی رعایت ضروری ہے۔جو اس کو چھوڑتا ہے وہ کافرِ نعمت ہے۔دیکھو! یہ زبان جو خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور عروق و اعصاب سے اس کو بنایا ہے اگر ایسی نہ ہوتی تو ہم بول نہ سکتے۔ایسی زبان دعا کے لیے عطا کی جو قلب کے خیالات اور ارادوں تک کو ظاہر کرسکے۔اگر ہم دعا کا کام زبان سے کبھی نہ لیں تو ہماری شوربختی ہے۔بہت سی بیماریاں ایسی ہیں کہ اگر وہ زبان کو لگ جاویں تو وہ یکدفعہ ہی کام چھوڑ بیٹھتی ہے یہ رحیمیّت ہے۔ایسا ہی قلب میں خشوع و خضوع کی حالت رکھی اور سوچنے اور تفکّر کی قوتیں ودیعت کی ہیں۔پس یاد رکھو! اگر ہم ان قوتوں اور طاقتوں کو معطل چھوڑ کر دعا کرتے ہیں تو یہ دعا کچھ بھی مفید اور کارگر نہ ہوگی کیونکہ جب پہلے عطیہ سے کچھ کام نہیں لیا تو دوسرے سے کیا نفع اُٹھائیں گے، اس لئے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ سے پہلے اِيَّاكَ نَعْبُدُ بتارہا ہے کہ ہم نے تیرے پہلے عطیوں اور قوتوں کو بیکار اور برباد نہیں کیا۔یاد رکھو! رحمانیت کا خاصہ یہی ہے کہ وہ رحیمیت سے فیض اُٹھانے کے قابل بنادے، اس لئے خدا تعالیٰ نے جو اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن:۶۱) فرمایا یہ نری لفاظی نہیں ہے بلکہ انسانی شرف اسی کا متقاضی ہے۔مانگنا انسانی خاصّہ ہے اور استجابت اللہ تعالیٰ کا۔جو نہیں مانتا وہ ظالم ہے۔دعا ایک ایسی