ملفوظات (جلد 1) — Page 183
تو گویا مجموعی طور پر انسان ہی اُن سب سے فائدہ اُٹھانے والا ٹھیرا۔دیکھو جسمانی اُمور میں کیسی اعلیٰ درجہ کی غذائیں کھاتا ہے۔اعلیٰ درجہ کا گوشت انسان کے لئے ہے۔ٹکڑے اور ہڈیاں کتوں کے واسطے۔جسمانی طور پر تو کسی حد تک حیوان بھی شریک ہیں مگر رُوحانی لذّات میں جانور شریک نہیں ہیں۔پس یہ دو قسم کی رحمتیں ہیں۔ایک وہ جو ہمارے وجود سے پہلے ہی عطا ہوتی ہیں اور دوسری وہ جو رحیمیت کی شان کے نمونے ہیں اور وہ دعا کے بعد پیدا ہوتے ہیں اور اُن میں ایک فعل کی ضرورت ہوتی ہے۔دعا اور قانونِ قدرت کا باہمی تعلق یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس امر کو بیان کر دیا جائے کہ قانونِ قُدرت میں ہمیشہ دعا کا تعلق ہے۔آج کل کے نیچری طبع لوگ جو علومِ حقّہ سے محض بے خبر اور ناواقف ہیں اور اُن کی ساری تگ و دو کا نتیجہ یورپ کے طرزِ معاشرت کی نقل اُتارنا ہے، دُعا کو ایک بدعت سمجھتے ہیں اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دعا کے تعلق پر کچھ مختصر سی بحث کی جاوے۔دیکھو ایک بچہ جب بھوک سے بیتاب اور بے قرار ہو کر دودھ کے لیے چلّاتا ہے اور چیختا ہے تو ماں کی پستان میں دُودھ جوش مار کر آجاتا ہے حالانکہ بچہ تو دعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن یہ کیا سبب ہے کہ اُس کی چیخیں دُودھ کو جذب کرلاتی ہیں۔یہ ایک ایسا امر ہے کہ عموماً ہر ایک صاحب کو اس کا تجربہ ہے۔بعض اوقات ایسا دیکھا گیا ہے کہ مائیں اپنی چھاتیوں میں دُودھ کو محسوس بھی نہیں کرتی ہیں اور بسا اوقات ہوتا بھی نہیں، لیکن جونہی بچہ کی درد ناک چیخ کان میں پہنچی فوراً دُودھ اُتر آیا ہے جیسے بچہ کی ان چیخوں کو دُودھ کے جذب اور کشش کے ساتھ ایک علاقہ ہے۔مَیں سچ کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری چلّاہٹ ایسی ہی اضطراری ہو تو وہ اُس کے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اور اس کو کھینچ لاتی ہے اور مَیں اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ خدا کے فضل اور رحمت کو جو قبولیت دعا کی صورت میں آتا ہے میں نے اپنی طرف کھینچتے ہوئے محسوس کیا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ دیکھا ہے۔ہاں آج کل کے زمانہ کے تاریک دماغ فلاسفر اس کو محسوس نہ کرسکیں یا نہ دیکھ سکیں تو یہ صداقت دنیا سے اُٹھ نہیں سکتی اور