ملفوظات (جلد 1) — Page 179
آگے پیچھے نہ ہوگی۔وہ لوگ جو اس سلسلہ کی قدر نہیں کرتے اور انہیں کوئی عظمت اس کی معلوم ہی نہیں ان کو جانے دو مگر ان سب سے بڑھ کر بدقسمت اور اپنی جان پر ظلم کرنے والا تو وہ ہے جس نے اس سلسلہ کو شناخت کیا اور اُس میں شامل ہونے کی فکر کی لیکن اُس نے کچھ قدر نہ کی۔وہ لوگ جو یہاں آکر میرے پاس کثرت سے نہیں رہتے اور اُن باتوں سے جو خدا تعالیٰ ہر روز اپنے سلسلہ کی تائید میں ظاہر کرتا ہے نہیں سُنتے اور دیکھتے وہ اپنی جگہ پر کیسے ہی نیک اور متقی اور پرہیز گار ہوں مگر میں یہی کہوں گا کہ جیسا چاہیے انہوں نے قدر نہیں کی۔مَیں پہلے کہہ چکا ہوں کہ تکمیل علمی کے بعد تکمیلِ عملی کی ضرورت ہے۔پس تکمیل عملی بدُوں تکمیل علمی کے مُحال ہے اور جب تک یہاں آکر نہیں رہتے تکمیل علمی مشکل ہے۔بارہا خطوط آتے ہیں کہ فلاں شخص نے اعتراض کیا اور ہم جواب نہ دے سکے۔اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی کہ وہ لوگ یہاں نہیں آتے اور اُن باتوں کو نہیں سنتے جو خدا تعالیٰ اپنے سلسلہ کی تائید میں علمی طور پر ظاہر کررہا ہے۔پس اگر تم واقعی اس سلسلہ کو شناخت کرتے ہو اور خدا پر ایمان لاتے ہو اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا سچا وعدہ کرتے ہو تو مَیں پوچھتا ہوں کہ اس پر عمل کیا ہوتا ہے۔کیا كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ (التوبۃ:۱۱۹) کا حکم منسوخ ہوچکا ہے؟ اگر تم واقعی ایمان لاتے ہو اور سچی خوش قسمتی یہی ہے تو اللہ تعالیٰ کو مقدم کرلو۔اگر ان باتوں کو ردّی اور فضول سمجھو گے تو یاد رکھو خدا تعالیٰ سے ہنسی کرنے والے ٹھیرو گے۔۲۱؎ سورۃ فاتحہ میں قرآنِ کریم کے تمام معارف درج ہیں سورۃ الفاتحہ پر جو قرآن شریف کا باریک نقشہ ہے اور اُمّ الکتاب بھی جس کا نام ہے خوب غور کرو کہ اس میں اجمال کے ساتھ قرآن کریم کے تمام معارف درج ہیں۔چنانچہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سے اس کو شروع کیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تمام محامد اللہ ہی کے لئے ہیں۔اس میں یہ تعلیم ہے کہ تمام منافع اور تمدنی زندگی کی ساری بہبودگیاں اللہ ہی کی