ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 173

سینہ میں پڑا ہوا ہے۔بیت اللہ پر بھی ایک زمانہ آیا ہوا تھا کہ کُفّار نے وہاں بُت رکھ دیئے تھے۔ممکن تھا کہ بیت اللہ پر یہ زمانہ نہ آتا مگر نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک نظیر کے طور پر رکھا۔قلبِ انسانی بھی حجرِ اسود کی طرح ہے اور اس کا سینہ بیت اللہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ماسویٰ اللہ کے خیالات وہ بُت ہیں جو اس کعبہ میں رکھے گئے ہیں۔مکہ معظمہ کے بتوں کا قلع وقمع اس وقت ہوا تھا جب کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار قدوسیوں کی جماعت کے ساتھ وہاں جاپڑے تھے اور مکہ فتح ہوگیا تھا۔ان دس ہزار صحابہ کو پہلی کتابوں میں ملائکہ لکھا ہے اور حقیقت میں ان کی شان ملائکہ ہی کی سی تھی۔انسانی قویٰ بھی ایک طرح پر ملائکہ ہی کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ جیسے ملائکہ کی یہ شان ہے کہ يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ (النحل:۵۱) اسی طرح پر انسانی قویٰ کا خاصہ ہے کہ جو حکم ان کو دیا جائے اُس کی تعمیل کرتے ہیں۔ایسا ہی تمام قویٰ اور جوارح حکمِ انسانی کے نیچے ہیں۔پس ماسویٰ اللہ کے بتوں کی شکست اور استیصال کے لئے ضروری ہے کہ اُن پر اسی طرح سے چڑھائی کی جاوے۔یہ لشکر تزکیۂ نفس سے طیار ہوتا ہے اور اسی کو فتح دی جاتی ہے جو تزکیہ کرتا ہے چنانچہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا (الشمس:۱۰) حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر قلب کی اصلاح ہوجاوے تو کُل جسم کی اصلاح ہوجاتی ہے۔اور یہ کیسی سچی بات ہے آنکھ، کان، ہاتھ، پاؤں، زبان وغیرہ جس قدر اعضاء ہیں وہ دراصل قلب کے ہی فتویٰ پر عمل کرتے ہیں۔ایک خیال آتا ہے پھر وہ جس اعضاء کے متعلق ہو وہ فوراً اس کی تعمیل کے لئے طیار ہوجاتا ہے۔میری پیروی کرو اور میرے پیچھے چلے آؤ غرض اس خانہ خدا کو بتوں سے پاک و صاف کرنے کے لئے ایک جہاد کی ضرورت ہے اور اس جہاد کی راہ مَیں تمہیں بتاتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں اگر تم اس پر عمل کرو گے توان بتوں کو توڑ ڈالو گے اور یہ راہ مَیں اپنی خود تراشیدہ نہیں بتاتا بلکہ خدا نے مجھے مامور کیا ہے کہ مَیں بتاؤں۔اور وہ راہ کیا ہے؟ میری پیروی کرو اور میرے پیچھے چلے آؤ۔یہ آواز نئی آواز نہیں ہے۔مکہ کو بتوں سے پاک کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کہا تھا قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ