ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 157

یہ بات بھی یاد رکھو کہ فطرتاً انسان تین قسم کے ہوتے ہیں ایک فطرتاً ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ۔دوسرے مُقْتَصِدٌ یعنی کچھ نیکی سے بہرہ ور اور کچھ برائی سے آلودہ۔سوم بُرے کاموں سے متنفر اور سَابِقٌۢ بِالْخَيْرٰتِ۔پس یہ آخری سلسلہ ایسا ہوتا ہے کہ اجتباء اور اصطفاء کے مراتب پر پہنچتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام کا گروہ ایسے پاک سلسلہ میں سے ہوتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ جاری ہے۔دنیا ایسے لوگوں سے خالی نہیں۔بعض لوگ دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ میرے لئے دعا کرو۔مگر افسوس ہے کہ وہ دعا کرانے کے آداب سے واقف نہیں ہوتے۔عنایت علی نے دعا کی ضرورت سمجھی اور خواجہ علی کو بھیج دیا کہ آپ جا کر دعا کرائیں۔کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔جب تک دعا کرانے والا اپنے اندر ایک صلاحیت اور اتّباع کی عادت نہ ڈالے دعا کارگر نہیں ہو سکتی۔مریض اگر طبیب کی اطاعت ضروری نہیں سمجھتا ممکن نہیں کہ فائدہ اُٹھا سکے۔جیسے مریض کو ضروری ہے کہ استقامت اور استقلال کے ساتھ طبیب کی رائے پر چلے تو فائدہ اُٹھائے گا۔ایسے ہی دعا کرانے والے کے لئے آداب اور طریق ہیں۔تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک بزرگ سے کسی نے دعا کی خواہش کی۔بزرگ نے فرمایا کہ دُودھ چاول لاؤ۔وہ شخص حیران ہوا۔آخر وہ لایا۔بزرگ نے دعا کی اور اس شخص کا کام ہوگیا۔آخر اسے بتلایا گیا کہ یہ صرف تعلق پیدا کرنے کے لئے تھا۔ایسا ہی باوا فرید صاحب کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ ایک شخص کا قبالہ گم ہوا اور وہ دعا کے لئے آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے حلوہ کھلاؤ اور وہ قبالہ حلوائی کی دو کان سے مل گیا۔ان باتوں کے بیان کرنے سے میرا یہ مطلب ہے کہ جب تک دعا کرنے والے اور کرانے والے میں ایک تعلق نہ ہو۔متاثر نہیں ہوتی۔غرض جب تک اضطرار کی حالت پیدا نہ ہو اور دعا کر نے والے کا قلق دعا کرانے والے کا قلق نہ ہو جائے کچھ اثر نہیں کرتی۔بعض اوقات یہی مصیبت آتی ہے کہ لوگ دعا کرانے کے آداب سے واقف نہیں ہوتے اور دعا کا کوئی بیّن فائدہ محسوس نہ کرکے خدائے تعالیٰ پر بدظن ہو جاتے ہیں اور اپنی حالت کو قابلِ رحم بنا لیتے ہیں۔بالآخر میں کہتا ہوں کہ خود دعا کرو یا دعا کراؤ۔پا کیزگی اور طہارت پیدا کرو۔استقامت چاہو