ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 143

نشہ آجاتا ہے۔دانشمند اور بزرگ انسان اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے اور پڑھتا جاوے یہاں تک کہ اُس کو سرور آجاوے اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذّت ہوتی ہے جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذّات ہوتا ہے اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رُجحان نماز میں اُسی سُرور کا حاصل کرنا ہو اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق و کرب کی مانند ہی ایک دعا پیدا ہو کہ وہ لذت حاصل ہو تو مَیں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقیناً یقیناً وہ لذت حاصل ہوجاوے گی۔پھر نماز پڑھتے وقت اُن مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اس سے ہوتے ہیں اور احسان پیشِ نظر رہے اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ (ھود:۱۱۵) نیکیاں بدیوں کو زائل کردیتی ہیں۔پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دعا کرے کہ وہ نماز جو کہ صدیقوں اور محسنوں کی ہے، وہ نصیب کرے۔یہ جو فرمایا ہے اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دُور کرتی ہے یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نہ روح اور نہ راستی کے ساتھ۔وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر وہ ٹکریں مارتے ہیں۔اُن کی رُوح مُردہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا الصلوٰۃ کا لفظ نہیں رکھا باوجودیکہ معنے وہی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن و جمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نماز بدیوں کو دُور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے وہ نماز یقیناً یقیناً برائیوں کو دور کرتی ہے۔نماز نشست و برخاست کا نام نہیں ہے۔نماز کا مغز اور رُوح وہ دعا ہے جو ایک لذّت اور سُرور اپنے اندر رکھتی ہے۔ارکانِ نماز کی حقیقت ارکانِ نماز دراصل روحانی نشست و برخاست کے دو حصّے ہیں۔انسان کو خدا تعالیٰ کے رُوبرو کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قیام بھی آداب خدمت گاراں میں سے ہے۔رکوع جو دوسرا حصہ ہے بتلاتا ہے کہ گویا تیاری ہے کہ وہ تعمیل حکم کو