ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 134

طرح رہے اور خدا کو ان سے محبت نہیں۔پنجم۔خدا تعالیٰ کے حبیب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ کو گالیاں دینا درود شریف کے پڑھنے سے بھی زیادہ ثواب سمجھتے ہیں۔ششم۔کسی اکابر اور اہل اللہ کو نیک نہیں سمجھتے۔میں نے اپنے استاد سے حضرت سید عبد القادر جیلانیؒ کی نسبت سنا ہے کہ وہ گالیاں دیتے تھے۔اصل بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ بد نام یزید ہے۔اگر اس کی شراکت سے امام حسینؓ کی شہادت ہوئی تو بُرا کیا لیکن آجکل کے شیعہ بھی مل کر وہ دینی کام نہیں کر سکتے جو اس نے کیا۔طعامِ اہلِ کتاب اہلِ کتاب کے کھانا کھانے پر بابو محمد افضل صاحب کے سوال پر جواب دیا کہ تمدن کے طور پر ہندوؤں کی چیز بھی کھا لیتے ہیں۔اسی طرح عیسائیوں کا کھانا بھی درست ہے مگر بایں ہمہ یہ خیال ضروری ہے کہ برتن پاک ہوں، کوئی ناپاک چیز نہ ہو۔۱۳؎ ۱۵ ؍ جنوری ۱۸۹۸ء کو خواجہ کمال الدین صاحب بی اے، کے ایل ایل بی کے امتحان میں کامیاب ہونے کی خبر آئی۔فجر کی نماز کے بعد حضرت اقدس امام ہمام علیہ السلام بیٹھ گئے اور مندرجہ ذیل مختصر سی تقریر فرمائی۔دنیوی کامیابیاں اور خوشیاں دائمی نہیں انسان کو ہر قسم کی کامیابی کے موقع پر ایک خوشی ہوتی ہے۔قرآن شریف سے تین قسم کی خوشیاں، لہو، لعب، تفاخر معلوم ہوتی ہیں۔لہو میں اشیاء خوردنی شامل ہیں اور لعب میں شادی وغیرہ کی خوشیاں اور تفاخر میں مال وغیرہ کی خوشیاں۔یہ تین قسم کی خوشیاں ہیں ان سے باہر کوئی خوشی نہیں ہے۔مگر یاد رکھو کہ کامیابیاں اور یہ خوشیاں دائمی نہیں ہوتی ہیں بلکہ ان کے ساتھ دل لگاؤ گے تو سخت حرج ہوگا اور رفتہ رفتہ ایک وقت آتا جاتا ہے کہ ان خوشیوں کا زمانہ تلخیوں سے بدلنے لگتا ہے۔