ملفوظات (جلد 1) — Page 128
اور ان آدمیوں کو جو ہم سے دور ہیں اپنے فعل اور قول سے سمجھا دو۔اگر یہ بات نہیں ہے اور عمل کی ضرورت نہیں ہے تو پھر مجھے بتلاؤ کہ یہاں آنے سے کیا مطلب ہے۔میں مخفی تبدیلی نہیں چاہتا۔نمایاں تبدیلی مطلوب ہے تا کہ مخالف شرمندہ ہوں اور لوگوں کے دلوں پر یک طرفہ روشنی پڑے اور وہ نا امید ہو جاویں کہ یہ مخالف ضلالت میں پڑے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بڑے بڑے شریر آکر تائب ہوئے وہ کیوں؟ اس عظیم الشان تبدیلی نے جو صحابہ ؓ میں ہوئی اور ان کے واجب التقلید نمونوں نے ان کو شرمندہ کیا۔عکرمہ کا پاک نمونہ عکرمہ کا حال تم نے سنا ہوگا۔اُحد کی مصیبت کا بانی مبانی یہی تھا اور اس کا باپ ابوجہل تھا لیکن آخر اسے صحابہ کرام ؓ کے نمونوں نے شرمندہ کر دیا۔میرا مذہب یہ ہے کہ خوارق نے ایسا اثر نہیں کیا جیسا کہ صحابہ کرام ؓ کے پاک نمونوں اور تبدیلیوں نے لوگوں کو حیران کیا۔لوگ حیران ہو گئے کہ ہمارا چچازاد کہاں سے کہاں پہنچا۔آخر انہوں نے اپنے دھوکا کو سمجھا۔عکرمہ نے ایک وقت ذات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کیا اور دوسرے وقت لشکر کفّار کو درہم برہم کیا۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ ؓ نے جو پاک نمونے دکھائے ہیں ہم آج فخر کے ساتھ ان کو دلائل اور آیات کے رنگ میں بیان کر سکتے ہیں۔چنانچہ عکرمہ ہی کا نمونہ دیکھو کہ کفر کے دنوں میں کفر۔عُجب وغیرہ خصائلِ بَد اپنے اندر رکھتا تھا اور چاہتا تھا کہ بس چلے تو اسلام کو دنیا سے نابود کر دے مگر جب خدائے تعالیٰ کے فضل نے اس کی دستگیری کی اور وہ مشرف بااسلام ہوا تو ایسے اخلاق پیدا ہوئے کہ وہ عُجب اور پندار نام تک کو باقی نہ رہا اور فروتنی اور انکسار پیدا ہوا کہ وہ انکسار حجۃ الاسلام ہو گیا اور صداقت اسلام کے لئے ایک دلیل ٹھہرا۔ایک موقع پر کفار سے مقابلہ ہوا۔عکرمہ لشکر اسلام کا سپہ سالار تھا۔کفار نے بہت سخت مقابلہ کیا یہاں تک کہ لشکر اسلام کی حالت قریب شکست کھانے کے ہو گئی۔عکرمہ نے جب دیکھا تو گھوڑے سے اترا۔لوگوں نے کہا کہ آپ کیوں اترتے ہیں۔شاید اِدھر اُدھر ہونے کا وقت ہو تو گھوڑا مدد دے۔تو اس نے کہا۔اس وقت مجھے وہ زمانہ یاد آگیا ہے جب میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا