ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 129

مقابلہ کرتا تھا۔میں چاہتا ہوں کہ جان دے کر گناہوں کا کفارہ کروں۔اب دیکھیے کہ کہاں سے کہاں تک حالت پہنچی کہ بار بار محامد سے یاد کیا گیا۔یہ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی رضا ان لوگوں کے شامل حال ہوتی ہے جو اس کی رضا اپنے اندر جمع کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جابجا ان کو رضی اللہ عنہ کہا ہے۔میری نصیحت یہ ہے کہ ہر شخص ان اخلاق کی پابندی کرے۔عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ علاوہ ازیں دو حصے اور بھی ہیں جن کو مدنظر رکھنا صادق اخلاص مند کا کام ہونا چاہیے۔ان میں سے ایک عقائد صحیحہ کا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا کمال فضل ہے کہ اس نے کامل اور مکمل عقائد صحیحہ کی راہ ہم کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بدوں مشقت و محنت کے دکھائی ہے۔وہ راہ جو آپ کو اس زمانہ میں دکھائی ہے بہت سے عالم ابھی تک اس سے محروم ہیں۔پس خدا تعالیٰ کے اس فضل اور نعمت کا شکر کرو اور وہ شکر یہی ہے کہ سچے دل سے ان اعمال صالحہ کو بجا لاؤ جو عقائد صحیحہ کے بعد دوسرے حصہ میں آتے ہیں اور اپنی عملی حالت سے مدد لے کر دعا مانگو کہ وہ ان عقائد صحیحہ پر ثابت قدم رکھے اور اعمال صالحہ کی توفیق بخشے۔حصہ عبادات میں صوم ، صلوٰۃ و زکوٰۃ وغیرہ امور شامل ہیں۔اب خیال کرو کہ مثلاً نماز ہی ہے۔یہ دنیا میں آئی ہے لیکن دنیا سے نہیں آئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ۔نماز کے اوقات روحانی حالتوں کی ایک عکسی تصویر ہے اور یہ بھی یاد رکھو کہ یہ جو پانچ وقت نماز کے لئے مقرر ہیں یہ کوئی تحکّم اور جبر کے طور پر نہیں بلکہ اگر غور کرو تو یہ دراصل روحانی حالتوں کی ایک عکسی تصویر ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ (بنی اسـرآءیل:۷۹) یعنی قائم کرو نماز کو دلوک الشمس سے۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے یہاں قیامِ صلوٰۃ کو دُلُوْکِ الشَّمْسِ سے لیا ہے۔دُلُوْک کے معنوں میں گو اختلاف ہے لیکن دوپہر کے ڈھلنے کے وقت کا نام دُلُوْک ہے۔اب دُلُوْک سے لے کر پانچ نمازیں رکھ دیں۔اس میں حکمت اور سِر کیا ہے؟ قانون قدرت