ملفوظات (جلد 1) — Page 126
ہے اللہ تعالیٰ اس کی دعا رد نہیں کرتا ہے۔پس خدا سے مانگو اور یقین اور صدق نیت سے مانگو۔میری نصیحت پھر یہی ہے کہ اچھے اخلاق ظاہر کرنا ہی اپنی کرامت ظاہر کرنا ہے۔اگر کوئی کہے کہ میں کراماتی بننا نہیں چاہتا تو یہ یاد رکھے کہ شیطان اسے دھوکا میں ڈالتا ہے۔کرامت سے عُجب اور پندار مراد نہیں ہے۔کرامت سے لوگوں کو اسلام کی سچائی اور حقیقت معلوم ہوتی ہے اور ہدایت ہوتی ہے۔میں تمہیں پھر کہتا ہوں کہ عُجب اور پندار تو کرامت اخلاقی میں داخل ہی نہیں۔پس یہ شیطانی وسوسہ ہے۔دیکھو یہ کروڑہا مسلمان جو روئے زمین کے مختلف حصص میں نظر آتے ہیں کیا یہ تلوار کے زور سے، جبر و اکراہ سے ہوئے ہیں؟ نہیں ! یہ بالکل غلط ہے۔یہ اسلام کی کراماتی تاثیر ہے جو ان کو کھینچ لائی ہے۔کرامتیں انواع و اقسام کی ہوتی ہیں۔منجملہ ان کے ایک اخلاقی کرامت بھی ہے جو ہر میدان میں کامیاب ہے۔انہوں نے جو مسلمان ہوئے ، صرف راستبازوں کی کرامت ہی دیکھی اور اس کا اثر پڑا۔انہوں نے اسلام کو عظمت کی نگاہ سے دیکھا نہ تلوار کو دیکھا۔بڑے بڑے محقق انگریزوں کو یہ بات ماننی پڑی ہے کہ اسلام کی سچائی کی روح ہی ایسی قوی ہے جو غیر قوموں کو اسلام میں آنے پر مجبور کر دیتی ہے۔سلسلہ کی عظمت اور عزت کا خیال رکھیں جو شخص اپنے ہمسایہ کو اپنے اخلاق میں تبدیلی دکھاتا ہے کہ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے۔وہ گویا ایک کرامت دکھاتا ہے۔اس کا اثر ہمسایہ پر بہت اعلیٰ درجہ کا پڑتا ہے۔ہماری جماعت میں اعتراض کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کیا ترقی ہو گئی ہے اور تہمت لگاتے ہیں کہ افترا، غیظ و غضب میں مبتلا ہیں۔کیا یہ ان کے لئے باعث ندامت نہیں ہے کہ انسان عمدہ سمجھ کر اس سلسلہ میں آیا تھا جیسا کہ ایک رشید فرزند اپنے باپ کی نیک نامی ظاہر کرتا ہے کیونکہ بیعت کرنے والا فرزند کے حکم میں ہوتا ہے اور اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو امہات المؤمنین کہا ہے۔گویا کہ حضورؐ عامۃ المومنین کے باپ ہیں۔جسمانی باپ زمین پر لانے کا موجب ہوتا ہے اور حیات ظاہری کا باعث مگر روحانی باپ آسمان پر لے جاتا اور اس مرکز اصلی کی طرف عود کرتا ہے۔کیا آپ پسند