ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 125

ہے کہ انسان دنیا میں ظنی اور وہمی باتوں کی طرف تو اس قدر گرویدہ ہو کر محنت کرتا ہے کہ آرام اپنے اوپر گویا حرام کر لیتا ہے اور صرف خشک امید پر کہ شاید کامیاب ہو جاویں ہزارہا رنج اور دکھ اٹھاتا ہے۔تاجر نفع کی امید پر لاکھوں روپے لگا دیتا ہے مگر یقین اسے بھی نہیں ہوتا کہ ضرور نفع ہی ہوگا۔مگر خدا تعالیٰ کی طرف جانے والے کی (جس کے وعدے یقینی اور حتمی ہیں کہ جس کی طرف قدم اٹھانے والے کی ذرا بھی محنت رائیگاں نہیں جاتی) مَیں اس قدر دوڑ دھوپ اور سرگرمی نہیں پاتا ہوں۔یہ لوگ کیوں نہیں سمجھتے؟ وہ کیوں نہیں ڈرتے کہ آخر ایک دن مَرنا ہے۔کیا وہ ان ناکامیوں کو دیکھ کر بھی اس تجارت کے فکر میں نہیں لگ سکتے۔جہاں خسارہ کا نام و نشان ہی نہیں اور نفع یقینی ہے۔زمیندار کس قدر محنت سے کاشتکاری کرتا ہے مگر کون کہہ سکتا ہے کہ نتیجہ ضرور راحت ہی ہوگا۔اللہ تعالیٰ کیسا رحیم ہے اور یہ کیسا خزانہ ہے کہ کوڑی بھی جمع ہو سکتی ہے۔روپیہ اور اشرفی بھی۔نہ چور چکار کا اندیشہ نہ یہ خطرہ ہے کہ دیوالہ نکل جاوے گا۔حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی ایک کانٹا راستہ سے ہٹاوے تو اس کا بھی ثواب اس کو دیا جاتا ہے اور پانی نکالتا ہوا اگر ایک ڈول اپنے بھائی کے گھڑے میں ڈال دے تو خدائے تعالیٰ اس کا بھی اجر ضائع نہیں کرتا۔پس یاد رکھو کہ وہ راہ جہاں انسان کبھی ناکام نہیں ہو سکتا وہ خدا کی راہ ہے۔دنیا کی شاہراہ ایسی ہے جہاں قدم قدم پر ٹھوکریں اور ناکامیوں کی چٹانیں ہیں۔وہ لوگ جنہوں نے سلطنتوں تک کو چھوڑ دیا آخر بیوقوف تو نہ تھے۔جیسے ابراہیم ادہم، شاہ شجاع، شاہ عبدالعزیز جو مجدد بھی کہلاتے ہیں۔حکومت ، سلطنت اور شوکت دنیا کو چھوڑ بیٹھے۔اس کی یہی وجہ تو تھی کہ ہر قدم پر ایک ٹھوکر موجود ہے۔خدا ایک موتی ہے اس کی معرفت کے بعد انسان دنیاوی اشیاء کو ایسی حقارت اور ذلت سے دیکھتا ہے کہ ان کے دیکھنے کے لئے بھی اسے طبیعت پر ایک جبر اور اکراہ کرنا پڑتا ہے۔پس خدائے تعالیٰ کی معرفت چاہو اور اس کی طرف ہی قدم اٹھاؤ کہ کامیابی اسی میں ہے۔اخلاقی کرامت اللہ تعالیٰ سے اصلاح چاہنا اور اپنی قوت خرچ کرنا یہی ایمان کا طریق ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو یقین سے اپنا ہاتھ دعا کے لئے اٹھاتا