ملفوظات (جلد 1) — Page 124
وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الگ ہو کر اگر ہوا و ہوس نفسانی کا بندہ ہوتا ہے تو خدا اس سے دور ہوتا جاتا ہے اور جوں جوں ادھر تعلقات بڑھتے ہیں ادھر کم ہوتے ہیں۔یہ مشہور بات ہے کہ دل رابدل رہے است۔پس اگر خدائے تعالیٰ سے عملی طور پر بیزاری ظاہر کرتا ہے تو سمجھ لے کہ خدائے تعالیٰ بھی اس سے بیزار ہے اور اگر خدائے تعالیٰ سے محبت کرتا ہے اور پانی کی طرح اس کی طرف جھکتا ہے تو سمجھ لے کہ وہ مہربان ہے۔محبت کرنے والے سے زیادہ اللہ تعالیٰ اس کو محبت کرتا ہے۔وہ وہ خدا ہے کہ اپنے محبوں پر برکات نازل کرتا ہے اور ان کو محسوس کرا دیتا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔یہاں تک کہ ان کے کلام میں ، ان کے لبوں میں برکت رکھ دیتا ہے اور لوگ اس کے کپڑوں اور اس کی ہر بات سے برکت پاتے ہیں۔اُمتِ محمدیہ میں اِس کا بیّن ثبوت اِس وقت تک موجود ہے کہ جو خدا کے لئے ہوتا ہے خدا اس کا ہو جاتا ہے۔خدا کی طرف سعی کرنے والا کبھی بھی ناکام نہیں رہتا خدائے تعالیٰ اپنی طرف آنے والے کی سعی اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا۔یہ ممکن ہے کہ زمیندار اپنا کھیت ضائع کر لے۔نوکر موقوف ہو کر نقصان پہنچاوے۔امتحان دینے والا کامیاب نہ ہو مگر خدا کی طرف سعی کرنے والا کبھی بھی ناکام نہیں رہتا۔اس کا سچا وعدہ ہے کہ اَلَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) خدائے تعالیٰ کی راہوں کی تلاش میں جو جویا ہوا وہ آخر منزل مقصود پر پہنچا۔دنیوی امتحانوں کے لئے تیاریاں کرنے والے، راتوں کو دن بنا دینے والے طالب علموں کی محنت اور حالت کو ہم دیکھ کر رحم کھا سکتے ہیں تو کیا اللہ تعالیٰ جس کا رحم اور فضل بے حد اور بے انت ہے اپنی طرف آنے والے کو ضائع کر دے گا؟ ہرگز نہیں۔ہرگز نہیں۔اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ (التوبۃ:۱۲۰) اور پھر فرماتا ہے مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ (الزلزال:۸) ہم دیکھتے ہیں کہ ہر سال ہزارہا طالب علم سالہا سال کی محنتوں اور مشقتوں پر پانی پھرتا ہوا دیکھ کر روتے رہ جاتے ہیں اور خود کشیاں کر لیتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کا فضل عمیم ایسا ہے کہ وہ ذرا سے عمل کو بھی ضائع نہیں کرتا۔پھر کس قدر افسوس کا مقام