ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 123

پولیس کے ہاتھ جاکر پٹے اور ان کا نشہ ہرن ہوگیا۔ایڈیٹر) میری باتوں کو ضائع نہ کریں پس میں پھر پکار کر کہتا ہوں اور میرے دوست سن رکھیں کہ وہ میری باتوں کو ضائع نہ کریں اور ان کو صرف ایک قصہ گو یا داستان گو کی کہانیوں ہی کا رنگ نہ دیں بلکہ میں نے یہ ساری باتیں نہایت دلسوزی اور سچی ہمدردی سے جو فطرتاً میری روح میں ہے کی ہیں۔ان کو گوش دل سے سنو اور ان پر عمل کرو۔ہاں خوب یاد رکھو اور اس کو سچ سمجھو کہ ایک روز اللہ تعالیٰ کے حضور جانا ہے۔پس اگر ہم عمدہ حالت میں یہاں سے کوچ کرتے ہیں تو ہمارے لئے مبارکی اور خوشی ہے ورنہ بہت خطرناک حالت ہے۔یاد رکھو کہ جب انسان بُری حالت میں جاتا ہے تو مکان بعید اس کے لئے یہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔یعنی نزع کی حالت ہی سے اس میں تغیر شروع ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنَّہٗ مَنۡ یَّاۡتِ رَبَّہٗ مُجۡرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَہَنَّمَ ؕ لَا یَمُوۡتُ فِیۡہَا وَلَا یَحۡیٰی (طٰہٰ :۷۵) یعنی جو شخص مجرم بن کر آوے گا اس کے لئے ایک جہنم ہے جس میں نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔یہ کیسی صاف بات ہے۔اصل لذّت زندگی کی راحت اور خوشی ہی میں ہے بلکہ اسی حالت میں وہ زندہ متصور ہوتا ہے جبکہ ہر طرح کے امن اور آرام میں ہو۔اگر وہ کسی درد مثلاً قولنج یا درد دانت ہی میں مبتلا ہو جاوے تو وہ مُردوں سے بدتر ہوتا ہے اور حالت ایسی ہوتی ہے کہ نہ تو مردہ ہی ہوتا ہے اور نہ زندہ ہی کہلا سکتا ہے۔پس اسی پر قیاس کر لو کہ جہنم کے درد ناک عذاب میں کیسی بُری حالت ہوگی۔مجرم وہ ہے جو اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق قطع کر لے مجرم وہ ہے جو اپنی زندگی میں خدائے تعالیٰ سے اپنا تعلق کاٹ لیوے۔اس کو تو حکم تھا کہ وہ خدائے تعالیٰ کے لئے ہو جاتا اور صادقوں کے ساتھ ہو جاتا مگر وہ ہواوہوس کا بندہ بن کر رہا اور شریروں اور دشمنان خدا و رسول سے موافقت کرتا رہا۔گویا اس نے اپنے طرزِ عمل سے دکھا دیا کہ خدائے تعالیٰ سے قطع کر لی ہے۔یہ ایک عادۃ اللہ ہے کہ انسان جدھر قدم اٹھاتا ہے اس کی مخالف جانب سے وہ دور ہوتا جاتا ہے۔