ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 122

پیش کر دیتے ہیں اور اس کو ٹالنا چاہتے ہیں لیکن اخلاقی حالت ایک ایسی کرامت ہے جس پر کوئی انگلی نہیں رکھ سکتا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بڑا اور قوی اعجاز اخلاق ہی کا دیا گیا۔جیسے فرمایا اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ (القلم:۵) یوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ایک قسم کے خوارق قوت ثبوت میں جملہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات سے بجائے خود بڑھے ہوئے ہیں مگر اخلاقی اعجاز کا نمبر ان سب سے اول ہے جس کی نظیر دنیا کی تاریخ نہیں بتلا سکتی اور نہ پیش کر سکے گی۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو اپنے اخلاق سیّئہ کو چھوڑ کر عادات ذمیمہ کو ترک کرکے خصائل حسنہ کو لیتا ہے اس کے لئے وہی کرامت ہے۔مثلاً اگر بہت ہی سخت تند مزاج اور غصہ ور ان عاداتِ بَد کو چھوڑتا ہے اور حلم اور عفو کو اختیار کرتا ہے یا امساک کو چھوڑ کر سخاوت اور حسد کی بجائے ہمدردی حاصل کرتا ہے تو بیشک یہ کرامت ہے اور ایسا ہی خود ستائی اور خود پسندی کو چھوڑ کر جب انکساری اور فروتنی اختیار کرتا ہے تو یہ فروتنی ہی کرامت ہے پس تم میں سے کون ہے جو نہیں چاہتا کہ کراماتی بن جاوے۔میں جانتا ہوں ہر ایک یہی چاہتا ہے تو بس یہ ایک مدامی اور زندہ کرامت ہے کہ انسان اخلاقی حالت کو درست کرے کیونکہ یہ ایسی کرامت ہے جس کا اثر کبھی زائل نہیں ہوتا بلکہ نفع دور تک پہنچتا ہے۔مومن کو چاہیے کہ خَلق اور خالِق کے نزدیک اہل کرامت ہو جاوے۔بہت سے رند اور عیاش ایسے دیکھے گئے ہیں جو کسی خارق عادت نشان کے قائل نہیں ہوئے لیکن اخلاقی حالت کو دیکھ کر انہوں نے بھی سر جھکا لیا ہے اور بجز اقرار اور قائل ہونے کے دوسری راہ نہیں ملی۔بہت سے لوگوں کے سوانح میں اس امر کو پاؤ گے کہ انہوں نے اخلاقی کرامات ہی کو دیکھ کر دین حق قبول کرلیا۔(حضرت اقدس یہ تقریر نہایت جوش اور مؤثر طریق سے فرما رہے تھے کہ چند سکھ فقیرانہ لباس میں آئے۔نشہ میں مدہوش تھے۔انہوں نے آکر ایسی بکواس کی کہ ممکن تھا اس بہشتی مجلس میں بھنگ پڑے مگر ہمارے صادق امام علیہ السلام نے اپنے عملی نمونہ سے یہ اخلاقی کرامت جس کی ہدایت فرما رہے تھے دکھائی جس کا اثر سامعین پر ایسا پڑا کہ اکثر ان میں سے چِلّا چِلّا کر فرط جوش سے رو پڑے۔وہ شریر آخر