ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 121

اصلی شہ زور کون ہے؟ ہماری جماعت میں شہ زور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے مطلوب نہیں بلکہ ایسی قوت رکھنے والے مطلوب ہیں جو تبدیلِ اخلاق کے لئے کوشش کرنے والے ہوں۔یہ ایک امر واقعی ہے کہ وہ شہ زور اور طاقت والا نہیں جو پہاڑ کو جگہ سے ہٹا سکے۔نہیں نہیں۔اصل بہادر وہی ہے جو تبدیلِ اخلاق پر مقدرت پاوے۔پس یاد رکھو کہ ساری ہمت اور قوت تبدیلِ اخلاق میں صرف کرو کیونکہ یہی حقیقی قوت اور دلیری ہے۔خلق عظیم بڑی بھاری کرامت ہے میں نے کل یا پرسوں بیان کیا تھا کہ خلق عظیم بڑی بھاری کرامت ہے جو خارق عادت امور کو بھی مشتبہ کر سکتا ہے۔مثلاً اگر آج شق القمر کا معجزہ ہو تو یہ ہیئت و طبعی کے ماہر اور سائنس کے دلدادہ فی الفور اس کو کسوف خسوف کے اقسام میں داخل کر کے اس کی عظمت کو کم کرنا چاہیں گے اور جو پرانا معجزہ اب پیش کرتے ہیں تو اسے قصہ قرار دیتے ہیں۔مثلاً یہی کسوف خسوف دیکھو جو رمضان میں ہوا اور جو آیات مہدی میں سے ایک سماوی نشان تھا۔میں نے سنا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو علمِ ہیئت کی رو سے ثابت تھا کہ رمضان میں ایسا ہو۔یہ کہہ کر گویا وہ اس حدیث کی جو امام محمد باقر علیہ السلام کی طرف سے ہے وقعت کم کرنا چاہتے ہیں مگر یہ احمق اتنا نہیں سوچتے کہ نبوت ہر ایک شخص نہیں کرسکتا۔نبوت پیشگوئی کرنے کو کہتے ہیں۔یعنی ہر کس و ناکس کا یہ کام نہیں کہ وہ پیشگوئیاں کرتا پھرے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدعی مہدویّت و مسیحیّت کے زمانہ میں یہ کسوف خسوف رمضان میں ہوگا اور ابتدائے آفرینش سے آج تک کبھی نہیں ہوا۔پس اگر عقلی طور پر کسی قسم کا اشتباہ ہو تو ایسے مخالفوں کو چاہیے کہ وہ تاریخی طور پر اس پیشگوئی کی عظمت کو کم کر دکھائیں۔یعنی کسی ایسے وقت کا پتا دیں جبکہ رمضان میں کسوف خسوف اس طور پر ہو کہ پہلے کسی مدعی نے دعویٰ بھی کیا ہو اور جس امر کا دعویٰ کیا ہو اس امر کے ثبوت میں رمضان کے کسوف خسوف کی پہلے کسی نبی کے زمانہ میں پیشگوئی بھی کی گئی ہو مگر یہ ممکن نہیں کہ کوئی دکھلا سکے۔میری غرض اس واقعہ کے بیان سے صرف یہ تھی کہ خوارق پر تو کسی نہ کسی رنگ میں لوگ عذرات