ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 120

تصور کو یہاں تک پہنچایا کہ انسان کو بندر یا خنزیر کی صورت میں دیکھا۔غرض یہ ہے کہ جیسا کوئی تصور کرتا ہے ویسا ہی رنگ چڑھ جاتا ہے۔پس جو خیالاتِ بَد لذّات کا موجب سمجھے جاتے تھے ان کا قلع و قمع کرے۔یہ پہلی شرط ہے۔دوسری شرط نَدَمْ ہے یعنی پشیمانی اور ندامت ظاہر کرنا۔ہر ایک انسان کا کانشنس اپنے اندر یہ قوت رکھتا ہے کہ وہ اس کو ہر برائی پر متنبہ کرتا ہے مگر بدبخت انسان اس کو معطل چھوڑ دیتا ہے۔پس گناہ اور بدی کے ارتکاب پر پشیمانی ظاہر کرے اور یہ خیال کرے کہ یہ لذّات عارضی اور چند روزہ ہیں اور پھر یہ بھی سوچے کہ ہر مرتبہ اس لذّت اور حظ میں کمی ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ بڑھاپے میں آکر جبکہ قویٰ بیکار اور کمزور ہو جاویں گے آخر ان سب لذّاتِ دنیا کو چھوڑنا ہوگا۔پس جبکہ خود زندگی ہی میں یہ سب باتیں چھوٹ جانے والی ہیں تو پھر ان کے ارتکاب سے کیا حاصل؟ بڑا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو توبہ کی طرف رجوع کرے اور جس میں اول اقلاع کا خیال پیدا ہو یعنی خیالات فاسدہ و تصورات بیہودہ کو قلع وقمع کرے۔جب یہ نجاست اور ناپاکی نکل جاوے تو پھر نادم ہو اور اپنے کئے پر پشیمان ہو۔تیسری شرط عَزم ہے۔یعنی آئندہ کے لئے مصمم ارادہ کر لے کہ پھر ان برائیوں کی طرف رجوع نہ کروں گا اور جب وہ مداومت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے سچی توبہ کی توفیق عطا کرے گا یہاں تک کہ وہ سَیِّئَات اس سے قطعاً زائل ہو کر اخلاق حسنہ اور افعال حمیدہ اس کی جگہ لے لیں گے اور یہ فتح ہے اخلاق پر۔اس پر قوت اور طاقت بخشنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے۔جیسے فرمایا اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا (البقرۃ :۱۶۶) ساری قوتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں اور انسان ضعیف البنیان تو کمزور ہستی ہے۔خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا (النساء :۲۹) اس کی حقیقت ہے۔پس خدائے تعالیٰ سے قوت پانے کے لئے مندرجہ بالا ہر سہ شرائط کو کامل کرکے انسان کسل اور سُستی کو چھوڑ دے اور ہمہ تن مستعدی ہو کر خدائے تعالیٰ سے دعا مانگے۔اللہ تعالیٰ تبدیلِ اخلاق کر دے گا۔