ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 119

اندر اطلاع کرائی۔افلاطون کا قاعدہ تھا کہ جب تک وہ آنے والے کا حلیہ اور نقوش چہرہ کو معلوم نہ کر لیتا تھا اندر نہیں آنے دیتا تھا۔اور وہ قیافہ سے استنباط کر لیتا تھا کہ شخص مذکور کیسا ہے کیسا نہیں۔نوکر نے آکر اس شخص کا حلیہ حسب معمول بتلایا۔افلاطون نے جواب دیا کہ اس شخص کو کہہ دو کہ چونکہ تم میں اخلاق رذیلہ بہت ہیں مَیں ملنا نہیں چاہتا۔اس آدمی نے جب افلاطون کا یہ جواب سنا تو نوکر سے کہا کہ تم جا کر کہہ دو کہ جو کچھ آپ نے فرمایا وہ ٹھیک ہے مگر میں نے اپنی عادات رذیلہ کا قلع و قمع کر کے اصلاح کر لی ہے۔اس پر افلاطون نے کہا۔ہاں یہ ہو سکتا ہے۔چنانچہ اس کو اندر بلایا اور نہایت عزت و احترام کے ساتھ اس سے ملاقات کی۔جن حکماء کا یہ خیال ہے کہ تبدیل اخلاق ممکن نہیں وہ غلطی پر ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ملازمت پیشہ لوگ جو رشوت لیتے ہیں جب وہ سچی توبہ کردیتے ہیں پھر اگر ان کو کوئی سونے کا پہاڑ بھی دے تو اس پر نگاہ بھی نہیں کرتے۔توبہ کے تین شرائط توبہ دراصل حصول اخلاق کے لئے بڑی محرک اور مؤیّد چیز ہے اور انسان کو کامل بنا دیتی ہے۔یعنی جو شخص اپنے اَخلاقِ سَیِّئہ کی تبدیلی چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ سچے دل اور پکّے ارادے کے ساتھ توبہ کرے۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ توبہ کے لئے تین شرائط ہیں۔بدوں ان کی تکمیل کے سچی توبہ جسے توبۃ النصوح کہتے ہیں حاصل نہیں ہوتی۔ان ہرسہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اِقْلاع کہتے ہیں۔یعنی ان خیالات فاسدہ کو دور کر دیا جاوے جو ان خصائل ردّیہ کے محرک ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ تصورات کا بڑا بھاری اثر پڑتا ہے کیونکہ حیطہءِ عمل میں آنے سے پیشتر ہر ایک فعل ایک تصوری صورت رکھتا ہے۔پس توبہ کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ ان خیالات فاسد و تصورات بد کو چھوڑ دے۔مثلاً اگر ایک شخص کسی عورت سے کوئی ناجائز تعلق رکھتا ہو تو اسے توبہ کرنے کے لئے پہلے ضروری ہے کہ اس کی شکل کو بدصورت قرار دے اور اس کی تمام خصائل رذیلہ کو اپنے دل میں مستحضر کرے۔کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے تصورات کا اثر بہت زبردست اثر ہے اور میں نے صوفیوں کے تذکروں میں پڑھا ہے کہ انہوں نے