ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 118

ہے۔اسی طرح سے یاد رکھو کہ پیرانہ سالی دو قسم کی ہوتی ہے۔طبعی اور غیر طبعی۔طبعی تو وہ ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔غیر طبعی وہ ہے کہ کوئی اپنی امراض لاحقہ کا فکر نہ کرے تو وہ انسان کو کمزور کر کے قبل از وقت پیرانہ سال بنا دیں۔جیسے نظام جسمانی میں یہ طریق ہے ایسا ہی اندرونی اور روحانی نظام میں ہوتا ہے۔اگر کوئی اپنے اخلاق فاسدہ کو اخلاق فاضلہ اور خصائل حسنہ سے تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کی اخلاقی حالت بالکل گر جاتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور قرآن کریم کی تعلیم سے یہ امر ببداہت ثابت ہو چکا ہے کہ ہر ایک مرض کی دوا ہے لیکن اگر کسل اور سُستی انسان پر غالب آجاوے تو پھر بجز ہلاکت کے اور کیا چارہ ہے اگر ایسی بے نیازی سے زندگی بسر کرے جیسی کہ ایک بوڑھا کرتا ہے تو کیونکر بچاؤ ہو سکتا ہے۔تبدیل اخلاق مجاہدہ اور دعا سے ممکن ہے جب تک انسان مجاہدہ نہ کرے گا دعا سے کام نہ لے گا وہ غمرہ جو دل پر پڑ جاتا ہے دور نہیں ہو سکتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ (الرّعد:۱۲) یعنی خدا ئے تعالیٰ ہر ایک قسم کی آفت اور بلا کو جو قوم پر آتی ہے دور نہیں کرتا ہے جب تک خود قوم اس کو دور کرنے کی کوشش نہ کرے۔ہمت نہ کرے۔شجاعت سے کام نہ لے تو کیونکر تبدیلی ہو۔یہ اللہ تعالیٰ کی ایک لاتبدیل سنت ہے جیسے فرمایا وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا (الاحزاب:۶۳) پس ہماری جماعت ہو یا کوئی ہو وہ تبدیل اخلاق اسی صورت میں کر سکتے ہیں جبکہ مجاہدہ اور دعا سے کام لیں ورنہ ممکن نہیں ہے۔تبدیل اخلاق کے متعلق دو مذہب حکماء کے تبدیل اخلاق پر دو مذہب ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ انسان تبدیل اخلاق پر قادر ہے اور دوسرے وہ ہیں جو مانتے ہیں کہ وہ قادر نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ کسل اور سستی نہ ہو اور ہاتھ پیر ہلاوے تو تبدیل ہو سکتی ہے۔مجھے اس مقام پر ایک حکایت یاد آئی ہے اور وہ یہ ہے۔کہتے ہیں کہ یونانیوں کے مشہور فلاسفر افلاطون کے پاس ایک آدمی آیا اور دروازہ پر کھڑے ہو کر