ملفوظات (جلد 1) — Page 110
رعایت اور نگہداشت ضروری طور پر کی جاوے اور پھر دعا کی طرف رجوع ہو۔اولاً عقائد ، اخلاق اور عادات کی اصلاح ہو پھر اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔اخلاق انسان کے صالح ہونے کی نشانی ہیں اب میں ایک اور ضروری اور اشد ضروری بات بیان کرنی چاہتا ہوں۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ لاپروائی اور عدم توجہی سے نہ سنے۔یاد رکھو کہ اخلاق انسان کے صالح ہونے کی نشانی ہیں۔عام طور پر حدیث شریف میں مسلمان کی یہی تعریف آئی ہے کہ مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان سلامت رہیں۔(یہاں تک حضور نے تقریر فرمائی تھی کہ نماز عصر کا وقت ہوگیا۔چنانچہ آپ نے اور کل حاضرین نے نہایت خلوص اور سچے جوش سے نماز عصر ادا کی اور پھر سب کے سب ہمہ تن گوش ہو کر ’’مردِ خدا‘‘ کی باتیں سننے لگے اور آپؑ نے تقریر کو پھر شروع کیا۔ایڈیٹر) میں نے اس ذکر کو چھوڑا تھا کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی دعا تعلیم کرنے میں اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے کہ انسان تین پہلو ضرور مدّنظر رکھے۔اول: اخلاقی حالت۔دوم: حالت عقائد۔سوم:اعمال کی حالت۔مجموعی طور پر یوں کہو کہ انسان خداداد قوتوں کے ذریعے سے اپنے حال کی اصلاح کرے اور پھر اللہ تعالیٰ سے مانگے۔یہ مطلب نہیں کہ اصلاح کی صورت میں دعا نہ کرے۔نہیں اس وقت بھی مانگتا رہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں فاصلہ نہیں ہے البتہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں تقدم زمانی ہے کیونکہ جس حال میں اپنی رحمانیت سے بغیر ہماری دعا اور درخواست کے ہمیں انسان بنایا اور انواع و اقسام کی قوتیں اور نعمتیں عطا فرمائیں اس وقت ہماری دعا نہ تھی اس وقت خدا کا فضل تھا اور یہی تقدم ہے۔رحمانیت اور رحیمیت یہ یاد رہے کہ رحم دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک رحمانیت دوسرا رحیمیت کے نام سے موسوم ہے۔رحمانیت تو ایسا فیضان ہے کہ جو ہمارے وجود اور ہستی سے بھی پہلے ہی شروع ہوا۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے پہلے پہل اپنے علم قدیم سے دیکھ کر اس قسم