ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 103

اثر انداز ہو کر تموّج پیدا کر دیتی ہے اور اپنی آواز اور تکلّم سے وہ نہیں بولتے بلکہ الٰہی حال اور قال اور جوش سے۔اور ایسا ہی جب وہ دیکھتے ہیں تو جیسا کہ قاعدہ ہے کہ دیکھنے میں فکر شامل ہے ان کی رویت اپنے دخل سے نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ کے نور سے۔اور وہ ان کو ایک ایسی چیز دکھا دیتا ہے جو دوسری پُر غور نظر بھی نہیں دیکھ سکتی۔مومن کی فراست سے ڈرنا چاہیے جیسے آیا ہے کہ اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ یعنی مومن کی فراست سے بچو کیونکہ تمہاری آورد ہے اور اس کی آمد۔تمہارا قال ہے اس کا حال۔جیسے ایک گھڑی چلتی ہے اس کے پرزے تو اسے چلاتے رہیں گے۔ابر میں تم تین بجے کی جگہ سات بجے کا وقت کہہ سکتے ہو مگر گھڑی جو اسی مطلب کے لئے بنائی گئی ہے وہ تو ٹھیک وقت بتلائے گی اور خطا نہ کرے گی۔پس اگر اس سے جھگڑو گے تو بجز خفت کیا لو گے؟ اسی طرح سے یاد رکھو کہ متّقی کا یہ کام نہیں کہ وہ ان لوگوں سے جھگڑے اور مقابلہ کرے جو قرب الٰہی کا درجہ رکھتے ہیں اور دنیا میں مختلف ناموں سے پکارے جاتے ہیں۔پس مومن کے مقابلہ کے وقت ڈرو اور اِتَّقُوْا کے مصداق بنو۔ایسا نہ ہو کہ تم جھوٹے نکلو اور پھر اس غلط کاری کے بدترین نتائج بھگتو کیونکہ مومن تو اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے اور وہ نور تم کو نہیں ملا۔اس لئے تم ٹیڑھے چل سکتے ہو مگر مومن ہمیشہ سیدھا ہی چلتا ہے۔تم خود ہی بتلاؤ کہ کیا وہ شخص جو ایک تاریکی میں چل رہا ہے اس آدمی کا مقابلہ کر سکتا ہے جو چراغ کی روشنی میں جا رہا ہے؟ ہرگز نہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَ الْبَصِيْرُ (الانعام:۵۱) کیا اندھا اور بینا مساوی ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔پس جب ہم اس بات کو دیکھتے ہیں تو پھر کس قدر غلطی ہے کہ ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔غرض یہ ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرنا چاہیے اور مقابلہ مومن کے لئے تیار ہو جانا دانش مند انسان کا کام نہیں ہے اور مومن کی شناخت انہیں آثار اور نشانات سے ہو سکتی ہے جو ہم نے ابھی بیان کئے ہیں۔اسی فراست الٰہیہ کا رعب تھا جو صحابہ کرام ؓ پر تھا اور ایسا ہی انبیاء علیہم السلام کے ساتھ یہ رعب بطور نشان الٰہی آتا ہے۔وہ پوچھ لیتے تھے کہ اگر یہ وحی الٰہی ہے تو ہم مخالفت نہیں کرتے اور وہ