ملفوظات (جلد 1) — Page 98
بے علمی پر جو اِن معجزات کا موجب ہیں اصل معجزات کی نفی کی جرأت کرتا ہے۔ہاں ہمارا یہ مذہب ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو اپنے کسی بندے کو ان اسباب مخفیہ پر مطلع کر دے لیکن یہ کوئی لازم بات نہیں ہے۔دیکھو! انسان اپنے لئے جب گھر بناتا ہے تو جہاں اَور سب آسائش کے سامانوں کا خیال رکھتا ہے سب سے پہلے اس امر کو بھی ملحوظ رکھ لیتا ہے کہ اندر جانے اور باہر نکلنے کے لئے بھی کوئی دروازہ بنا لے۔اور اگر زیادہ ساز و سامان ہاتھی ، گھوڑے ، گاڑیاں بھی پاس ہیں تو علیٰ قدر مراتب ہر ایک چیز اور سامان کے نکلنے اور جانے کے واسطے دروازہ بناتا ہے نہ یہ کہ سانپ کی بانبی کی طرح ایک چھوٹا سا سوراخ۔اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کے فعل یعنی قانون قدرت پر ایک وسیع اور پُر غور نظر کرنے سے ہم پتا لگا سکتے ہیں کہ اس نے اپنی مخلوق کو پیدا کر کے یہ کبھی نہیں چاہا کہ وہ عبودیت سے سرکش ہو کر ربوبیت سے متعلق نہ ہو۔ربوبیت نے عبودیت کو دور کرنے کا ارادہ کبھی نہیں کیا۔سچا فلسفہ یہی ہے جو لوگ عبودیت کو کوئی مستقل اختیار والی شے سمجھتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔خدا نے اس کو ایسا نہیں بنایا۔ہماری معلومات ، خیالات اور عقلوں کا باہم مساوی نہ ہونا اور ہر امر پر پوری اور کماحقہ روشنی ڈالنے کے ناقابل ہونا صریح اس امر کی دلیل ہے کہ عبودیت بدوں فیضان ربوبیت کے نہیں رہ سکتی۔ہمارے جسم کا ذرّہ ذرّہ ملائک کا حکم رکھتا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر دوا اور اس سے بڑھ کر دعا کا اصول ہی بے فائدہ اور بے جان ہوتا۔زمین ، آسمان اور مَافِی الْاَرْضِ وَالسَّمٰوَاتِ پر نظر کرو اور سوچو کہ کیا یہ تمام مخلوقات بذاتہ و بنفسہ اپنے قیام اور ہستی میں مستقل اختیار رکھتے ہیں یا کسی کے محتاج ہیں؟ تمام مخلوقات اجرام فلکی سے لے کر ارضی تک اپنی بناوٹ ہی میں عبودیت کا رنگ رکھتی ہیں۔ہر پتّے سے یہ پتا ملتا ہے اور ہر شاخ اور آواز سے یہ صدا نکلتی ہے کہ الوہیت اپنا کام کر رہی ہے۔اس کے عمیق در عمیق تصرفات جن کو ہم خیال اور قوت سے بیان نہیں کر سکتے بلکہ کامل طور پر سمجھ بھی نہیں سکتے اپنا کام کر رہے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ (البقرۃ:۲۵۶) یعنی اللہ تعالیٰ ہی ایک ایسی ذات ہے جو جامع صفات کاملہ اور ہر ایک نقص سے منزّہ ہے۔وہی مستحق