ملفوظات (جلد 1) — Page 95
کو پیدا کرتی ہیں۔استسقاء کے مریض کی طرح ان کی پیاس نہیں بجھتی یہاں تک کہ ان کو ہلاک کر دیتی ہے مگر یہاں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے وہ نفس جس نے اپنا اطمینان خدائے تعالیٰ میں حاصل کیا ہے یہ درجہ بندے کے لئے ممکن ہے اس وقت اس کی خوشحالی باوجود مال و منال کے دنیاوی حشمت اور جاہ و جلال کے ہوتے ہوئے بھی خدا ہی میں ہوتی ہے۔یہ زر و جواہر، یہ دنیا اور اس کے دھندے اس کی سچی راحت کا موجب نہیں ہوتے۔پس جب تک انسان خدائے تعالیٰ ہی میں راحت اور اطمینان نہیں پاتا وہ نجات نہیں پا سکتا کیونکہ نجات اطمینان ہی کا ایک مترادف لفظ ہے۔نفس مُطْمَئِنَّہ کے بغیر انسان نجات نہیں پا سکتا میں نے بعض آدمیوں کو دیکھا اور اکثروں کے حالات پڑھے ہیں جو دنیا میں مال و دولت اور دنیا کی جھوٹی لذّتیں اور ہر ایک قسم کی نعمتیں اولاد احفاد رکھتے تھے۔جب مرنے لگے اور ان کو اس دنیا کے چھوڑ جانے اور ساتھ ہی ان اشیاء سے الگ ہونے اور دوسرے عالم میں جانے کا علم ہوا تو ان پر حسرتوں اور بے جا آرزوؤں کی آگ بھڑکی اور سرد آہیں مارنے لگے۔پس یہ بھی ایک قسم کا جہنم ہے جو انسان کے دل کو راحت اور قرار نہیں دے سکتا بلکہ اس کو گھبراہٹ اور بے قراری کے عالم میں ڈال دیتا ہے۔اس لئے یہ امر بھی میرے دوستوں کی نظر سے پوشیدہ نہیں رہنا چاہیے کہ اکثر اوقات انسان اہل و عیال اور اموال کی محبت ہاں ناجائز اور بےجا محبت میں ایسا محو ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات اسی محبت کے جوش اور نشہ میں ایسے ناجائز کام کر گزرتا ہے جو اس میں اور خدائے تعالیٰ میں ایک حجاب پیدا کر دیتے ہیں اور اس کے لئے ایک دوزخ تیار کر دیتے ہیں۔اس کو اس بات کا علم نہیں ہوتا جب وہ ان سب سے یکایک علیحدہ کیا جاتا ہے اس گھڑی کی اسے خبر نہیں ہوتی تب وہ ایک سخت بے چینی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ کسی چیز سے جب محبت ہو تو اس سے جدائی اور علیحدگی پر ایک رنج اور درد ناک غم پیدا ہو جاتا ہے۔یہ مسئلہ اب منقولی ہی نہیں بلکہ معقولی رنگ رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِ (الھمزۃ:۸،۷) پس یہ وہی غیر اللہ کی محبت کی آگ ہے جو